30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3377 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: عَلَى أَنَّ مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّهُ إِلَيْهِمْ وَمَنْ أَتَاهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَرُدُّوهُ وَعَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِلٍ وَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ خَرَجَ فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي: يَا عَمِّ يَا عَمِّ فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ قَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي. وَقَالَ جَعْفَرٌ: بِنْتُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي وَقَالَ زَيْدٌ: بِنْتُ أَخِي فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا وَقَالَ: «الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ» . وَقَالَ لَعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ» وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: «أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي» . وَقَالَ لزيد: «أَنْت أخونا ومولانا» |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیبیہ کے دن ۱؎ تین چیزوں پر صلح فرمائی اس پر مشرکین میں سے جو آپ کے پاس آئے حضور اسے لوٹا دیں کفار کی طرف ۲؎ اور جو مسلمان ان کے پاس چلا جائے وہ اسے واپس نہ کریں ۳؎ اور اس پر کہ سال آئندہ مکہ میں داخل ہوں اور وہاں تین دن قیام فرمائیں ۴؎ پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے اور مدت گزر گئی تو وہاں سے روانہ ہوئے ۵؎ تو حضرت حمزہ کی بیٹی آپ کے پیچھے ہولی چچا جان چچان جان کہتی ہوئی ۶؎ تو اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اٹھالیا اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۷؎ اس بچی میں جناب علی،زید،جعفرجھگڑے ۸؎ حضرت علی نے فرمایا کہ اسے میں نے لیا ہے وہ میری چچا زاد ہے ۹؎ اور حضرت جعفر بولے میری چچا زاد ہے اس کی خالہ میرے پاس ہے ۱۰؎ حضرت زید بولے میری بھتیجی ہے ۱۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا فیصلہ اس کی خالہ کے لیے کیا اور فرمایا کہ خالہ ماں کی جگہ ہے ۱۲؎ اور حضرت علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے۱۳؎ اور جناب جعفر سے فرمایا تم میری ہم صورت ہم سیرت ہو۱۴؎ اور حضرت زید سے فرمایا تم ہمارے بھائی ہماے پیارے ہو ۱۵؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ حدیبیہ مکہ معظمہ کے قریب ایک کنوئیں کا نام ہے،اس کنویں کی وجہ سے اس جنگل کا نام بھی حدیبیہ ہوگیا ہے یہ حدّہ منزل کے قریب ہے جسے اب بیر شمیس کہتے ہیں یہ جگہ حرم شریف کی انتہاء پر واقع ہے،حدیبیہ کا کچھ حصہ حرم میں داخل ہے کچھ حصہ حرم سے خارج ،حضور صلی اللہ علیہ و سلم عمرہ کی نیت سے چودہ سو صحابہ کرام کے ساتھ تشریف لائے جب یہاں پہنچے تو کفار نے روک دیا آخر کار ان باتوں پر مسلمانوں اور کفار میں صلح ہوئی جس کا ذکر یہاں ہے،اس کا واقعہ ان شاءاﷲ کتاب اطہار میں آئے گا۔
۲؎ یعنی اگر مشرکین مکہ میں سے کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ حضور کے پاس پہنچ جائے اور مشرکین اس کا مطالبہ کریں تو سرکار اسے روکیں نہیں بلکہ ان مشرکین کے پاس بھیج دیں۔
۳؎ یعنی جو مسلمان مرتد ہو کر کفار مکہ کے پاس پہنچ جائے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے واپس بلانے کا حق نہ رکھیں،بظاہر یہ شرط بہت سخت معلوم ہوتی تھی مگر اس شرط نے کفار مکہ کی کمر توڑ دی اور آخر کار فتح مکہ ہوگئی،یہ ہے حضور کی بے مثال سیاست۔
۴؎ یعنی اس سال بغیر عمرہ کیے مدینہ منورہ واپس ہوجائیں سال آئندہ عمرہ کے لیے مکہ معظمہ آئیں اوریہاں تین دن قیام کرکے واپس ہوجائیں۔
۵؎ یعنی عمرہ کرکے تین دن مکہ معظمہ میں قیام فرما کر مدینہ منورہ واپس ہونے لگے۔
۶؎ اس بچی کا نام عمارہ تھا اسی کی وجہ سے جناب حمزہ کی کنیت ابو عمارہ تھی اگرچہ حضرت حمزہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا تھے،اس رشتہ سے یہ بچی حضور کی چچا زاد بہن تھی مگر چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور حمزہ زید ابن حارثہ تینوں نے بی بی ثویبہ کا دودھ پیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع