30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس جملہ کے دو معنے ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اھل البیت اعطی کا مفعول اول ہو اور مفعول دوم پوشیدہ یعنی غلاموں کا پورا کنبہ ماں بچے بھائی بہن وغیرہ ایک ہی مسلمان کو عطا فرماتے،یہ نہ کرتے کہ ماں کسی کو بچہ کسی کو۔دوسرے یہ کہ اھل البیت مفعول دوم ہو اور اعطی کا پہلا مفعول وہ قیدی ہوں جو ابھی مذکور ہوئے یعنی وہ قیدی ایک گھر والے مؤمن کو عطا فرماتے پہلے معنے اشعۃ اللمعات نے اختیار کیے،دوسرے معنی مرقات نے،مقصد ایک ہی ہے کہ قیدی غلاموں کو اکٹھا رکھتے۔
۲؎ یہ عمل شریف اس صورت میں تھا کہ ان قیدیوں میں بعض بہت چھوٹے ناسمجھ بچے ہوتے کہ جدائی ڈالنے سے ان کی پرورش مشکل ہوجاتی اور ماں کو تکلیف ہوتی، جوان لونڈی غلاموں میں علیحدگی کرنا جائز ہے، اس سے تکلیف نہیں ہوتی۔
|
3374 -[33] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمُ؟ الَّذِي يَأْكُلُ وَحْدَهُ وَيَجْلِدُ عَبْدَهُ وَيَمْنَعُ رِفْدَهُ» . رَوَاهُ رزين |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا میں تم میں بدترین لوگوں کی خبر نہ دوں ؟ وہ ہے جو اکیلا کھائے ۱؎ اور اپنے غلام کو کوڑے مارے اور وہ اپنی عطا ۲؎ روکے (زرین) |
۱؎ یا تو بخل کی وجہ سے اکیلا کھائے بچے اور گھر والے اس کا منہ تکیں اور یہ عمدہ غذائیں اکیلا کھائے انہیں معمولی کھلائے،یا تکبر و غرور کی وجہ سے کسی کے ساتھ کھانا گوارا نہ کرے،اگر غربت و ضرورت کی وجہ سے ا کیلا کھائے تو ممنوع نہیں،ایک شخص گھر کا بوجھ اٹھاتاہے،محنت کرتا ہے اس لیے کچھ مقوی غذا کھاتا ہے تاکہ کام کاج کرسکے، وہ چیز ہے تھوڑی سی سب کو کافی نہیں تو مضائقہ نہیں،اس صور ت میں علیحدگی میں کھانا چاہیے سب کے سامنے کھانا بے مروتی ہے۔(ازمرقات مع زیادت)
۲؎ یعنی بے قصور غلاموں ماتحتوں کو مارے پیٹے اور گھر والے مہمانوں اور نوکروں کو ان کا حق نہ دے،بخیل بھی ہو بدخلق بھی اسے بدترین اس لیے فرمایا گیا کہ بندوں کے حقوق مارتا ہے رب تعالٰی کی نافرمانی کرتا ہے۔
|
3375 -[34] وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ» . قَالُوا:يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَى؟ قَالَ: «نَعَمْ فَأَكْرِمُوهُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلَادِكُمْ وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ» . قَالُوا: فَمَا تنفعنا الدُّنْيَا؟ قَالَ:«فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بدخلق آدمی جنت میں نہ جائے گا ۱؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا آپ نے ہم کو یہ خبر نہ دی کہ یہ امت تمام امتوں سے زیادہ غلاموں اور یتیموں والی ہے ۲؎ فرمایا ہاں تم ان پر اپنی اولاد کی طرح مہربانی کرو اور انہیں اس سے کھلاؤ جو خود کھاتے ہو ۳؎ لوگوں نے عرض کیا کہ ہم کو کتنی دنیا نفع دے گی ۴؎ فرمایا وہ گھوڑا جسے تم پالوجس پر اﷲ کی راہ میں جہاد کرو اور ایک غلام تمہیں کافی ہے ۵؎ جب وہ نماز پڑھے تو تمہارا بھائی ہے ۶؎(ابن ماجہ) |
۱؎ سیّ الملکۃ اسے کہتے ہیں جو اپنے مملوک غلاموں لونڈیوں سے بدخلقی کرے ان سے بُرا برتاؤ کرے یہ حدیث اس باب میں پہلے بھی گزر چکی ہے مگر یہاں زیادتی کے ساتھ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع