30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ اگرچہ آیت کریمہ میں ظلمًا کی قید تھی مگر صحابہ کرام نے خوف الہٰی کے باعث ادھر نظر ہی نہ کی وہ سمجھے کہ شاید یتیم کا مال ملانے کی صورت میں اس کا جو ٹکڑا یا قطرہ ہمارے پیٹ میں پہنچ جائے وہ بھی آگ ہی ہو یا ہم اسے ظلم نہ سمجھیں اور واقعہ میں وہ ظلم ہو لہذا یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ حضرات صحابہ کلام الہٰی کے منشاء سے بے خبر تھے تقویٰ کچھ اور ہی چیز ہے۔
۳؎ اس صورت میں یتیم کا خرچہ بھی زیادہ ہونے لگا اور ان کے والیوں کو تکلیف بھی زیادہ کیونکہ ایک آدمی کے لیے الگ کھانا پکانے میں بہت خرچہ پڑتا ہے اور کام بھی دوگنا ہوجاتا ہے خصوصًا جب کہ نمک مرچ لکڑی وغیرہ الگ رکھی جائے پھر بچی چیز سنبھالنا،خراب ہوجانے پر پھینکنا تکلیف دہ ہے۔
۴؎ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کو جو کچھ رب تعالٰی سے عرض کرنا ہوتا وہ حضور سے عرض کرتے تھے،حکم قرآن کی وجہ سے ان کو دشواری ہوئی تو بارگاہ رسالت میں آکر زاری کی اور رب تعالٰی بھی اس عرض و معروض پر انکی دادرسی فرماتا تھا۔
۵؎ مطلب یہ ہے کہ یتیم کا مال برے ارادے سے ظلمًا کھانا ممنوع ہے تم اس حکم سے خارج ہو کہ تمہاری نیت اصلاح ہے۔اس آیت کی بنا پر علماء نے فرمایا کہ اگر سفر میں کوئی ساتھی بیمار یا فوت ہوجائے تو دوسرے ساتھی اس کا مال اس کے علاج یا کفن دفن پر خرچ کرسکتے ہیں، حضرت امام محمد سے کچھ لوگوں نے عرض کیا کہ ہم لوگ حج کو جارہے تھے کہ ایک ساتھی فوت ہوگیا ہم نے اس کا مال فروخت کردیا اس کا کیا حکم ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرتے تو فقیہ نہ ہوتے،اس وقت مصلحت اسی میں تھی ورنہ اس کا وزنی مال و اسباب برباد ہوجاتا، خود امام محمد نے اپنے ایک شاگرد کی کتابیں فروخت کرکے اس کے کفن و دفن پر خرچ کیں، لوگوں نے پوچھا کہ اس نے مرتے وقت اس کی وصیت تو نہ کی تھی آپ نے یہ ہی آیت پڑھی"وَاللہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ"۔ (مرقات و فتح القدیر)
|
3372 -[31] وَعَن أبي مُوسَى قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ وَبَيْنَ الْأَخِ وَبَيْنَ أَخِيهِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارَقُطْنِيُّ |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ لعنت فرمائی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر جو باپ کو اس کے بچہ سے اور بھائی کو اس کے بھائی سے جدا کرے ۱؎ (ابن ماجہ،دار قطنی) |
۱؎ یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ صرف باپ بیٹے میں جدائی ڈالنا ممنوع نہیں بلکہ ہر دو ذی رحم عزیز و قرابتداروں کو جداکرنا ممنوع ہے، یہ حکم بہت چھوٹے بچے کے متعلق ہے جو دوسرے عزیز کے بغیر گزارہ نہ کرسکے، اس کی صورتیں پہلے گزر چکیں ماں بیٹے یا بھائی بھائی ایک شخص کی ملکیت میں ہوں وہ ان میں سے کسی ایک کو ہبہ کردے یا فروخت کردے یہ حرام ہے یہ دونوں اپنے پاس رکھے یا دونوں ایک ہی کو دے تاکہ وہ ساتھ رہیں، جانور کے چھوٹے بچہ کو اس کی ماں سے جدا کردینا حرام ہے۔
|
3373 -[32] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالسَّبْيِ أَعْطَى أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا كَرَاهِيَةَ أَنْ يفرق بَينهم. رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جب قیدی لائے جاتے تو آپ سارے گھر والے ایک کو اکٹھے دیتے ۱؎ یہ ناپسند فرماتے ہوئے کہ ان میں جدائی ڈالیں ۲؎(ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع