دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

وہ ان شاءاﷲ نماز کی برکت سے ٹھیک ہوجائے گا۔ یہ حدیث ہم گنہگاروں کے لیے بہت ہی امید افزا ہے، اﷲ تعالٰی نماز کی پابندی اور جماعت کی توفیق دے تو ان شاءاﷲ دنیا کی مار سے بھی بچیں گے اور رب تعالٰی اور اسکے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم آخرت کی سزا سے بھی بچائیں گے،جب یہاں شفاعت ہورہی ہے تو وہاں بھی شفاعت ہوگی۔شعر

جو یہاں عیب کسی کے نہیں کھلنے دیتے                    کب وہ چاہیں گے میری حشرمیں رسوائی ہو

3366 -[25]

وَفِي «الْمُجْتَبَى» لِلدَّارَقُطْنِيِّ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ

اور دار قطنی کے مجتبیٰ میں ہے کہ حضرت عمر ابن خطاب نے فرمایا کہ ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نمازیوں کو مارنے سے منع فرمایا ۱؎

۱؎  امام جزری فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ازروئے اسناد صحیح ہے، اسے امام احمد نے اپنی مسند میں اسی طرح روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم خیبر سے واپس تشریف لائے حضور کے پاس دو غلام تھے ایک حضرت علی کو عطا فرمایا اور انہیں تاکید فرمائی کہ اسے مارنا مت یہ نمازی ہے ہم نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔اس کی اسناد میں ابو غالب بصری ہیں وہ صحیح الحدیث ہیں ،ترمذی نے ان کی روایات کی تصحیح کی ہے لہذا حدیث صحیح ہے۔(مرقات)

3367 -[26]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كم نَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ؟ فَسَكَتَ ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْكَلَامَ فصمتَ فلمَّا كانتِ الثَّالثةُ قَالَ: «اعفُوا عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہواعرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہم خادم کو کتنی بار معافی دیں حضور خاموش رہے ۲؎ اس نے پھر وہ سوال دہرایا  آپ خاموش رہے  پھر جب تیسری بار سوال ہوا۳؎ تو فرمایا اسے ہر دن میں ستر بار معافی دو۴؎(ابوداؤد)

۱؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں عبداﷲ ابن عمرو واؤ کے ساتھ ہے مگر صحیح عبداﷲ ابن عمر کی یہ روایت ہے۔

۲؎ یا تو اس لیے خاموش رہے کہ اس کا یہ سوال پسند نہ آیا کیونکہ یہ بات پوچھنے کی نہیں نفسیاتی چیز ہے کہ اگر زیادہ معافی دینے سے غلام بگڑتا ہے تو کبھی کچھ سرزنش کردو،یا اس لیے خاموش رہے کہ وحی الہٰی کا انتظار تھا یا اس لئے خاموشی اختیار فرمائی تاکہ حضور کا جواب سائل کے دل میں بیٹھ جائے کہ جو چیز بہت انتظار کے بعد ملتی ہے اس کی قدر ہوتی ہے۔فقیر کے نزدیک یہ تیسری وجہ قوی ہے،اشعہ و مرقات نے پہلی دو وجہیں بتائیں۔

۳؎ یہ تینوں بار سوال ایک ہی مجلس میں ہوئے،بعض شارحین نے ثم  سے سمجھا کہ ان سوالوں میں کئی دن کا فاصلہ تھا کہ وہ شخص دوچار دن کے وقفہ سے آتا اور یہ سوال کرتا تھا  مگر یہ صحیح نہیں  ثم اسی لیے کہا گیا کہ سائل نے کچھ دیر جواب کا انتظار دیکھ کر پھر سوال کیا مسلسل نہ کیا۔

۴؎ عربی میں ستر کا لفظ بیان زیادتی کے لیے ہوتا ہے یعنی ہر دن اسے بہت دفعہ مافی دو،یہ اس صورت میں ہو کہ غلام سے خطاءً غلطی ہوجاتی ہو خباثت نفس سے نہ ہو اور قصور بھی مالک کا ذاتی ہو شریعت کا یا قوی و ملکی قصور نہ ہو کہ یہ قصور معاف نہیں کیئے جاتے ۔

3368 -[27]وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو

ترمذی بروایت عبداﷲ ابن عمرو  ۱؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن