دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3361 -[20]

وَعَن أبي أيوبَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص ماں اور اس کے بچے میں جدائی ڈالے ۱؎ تو اﷲ تعالٰی قیامت کے دن اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان ۲؎ جدائی کردے گا۔(ترمذی،دارمی)۳؎

۱؎ اس تفریق کی بہت صورتیں ہیں اور سب ممنوع۔لونڈی اپنے پاس رکھنا اس کا چھوٹا بچہ دوسرے کے ہاتھ فروخت کر دینا،دوسرے کو ہبہ کردینا،ماں کو اور جگہ رکھنا بچہ کو اور جگہ رکھنا،یہ حکم ماں بیٹے،باپ بیٹے،دادا پوتے وغیرہ سب کو شامل ہے مگر یہ حکم چھوٹے بچہ کے لیے ہے جو بغیر ماں نہ رہ سکے اور اس کے بغیر ماں بے چین رہے بڑے بچہ کی تفریق جائز ہے۔ امام شافعی کے ہاں سات سال کا بچہ بڑا ہےامام اوزاعی کے ہاں جب بچہ پیشاب پاخانہ سونا کھانا علیحدہ کرسکے،ہمارے امام اعظم کے ہاں بلوغ کی عمر کو پہنچ جانا ہے،بعض علماء تو فرماتے ہیں کہ جانوروں پر بھی یہ ظلم نہ کرو کہ بہت چھوٹے بچہ کو اس کی ماں سے جدا نہ کرو۔

۲؎ یعنی قیامت کے دن جامع المتفرقین ہے جس دن سارے اگلے پچھلے جمع ہوں گے اور خویش و اقارب کی شفاعت کام آئے گی مگر ایسا ظالم آدمی اس دن اپنے عزیزوں کی ملاقات اور ان کی شفاعت سے محروم ہوگا۔خیال رہے کہ قیامت کے اول دن میں تو کوئی کسی کو نہ پوچھے گا،بھائی بھائی سے بھاگے گا اور آخری حالات اس کے برعکس ہوں گے،وہاں ہر دوست  اپنے دوست کو یاد کرکے امداد کرے گا اسی لیے قیامت کا نام یوم حشر بھی ہے اور یوم التناد بھی۔

۳؎ یہ حدیث احمد و حاکم نے بھی نقل فرمائی،طبرانی نے حضرت معقل ابن یسار سے یوں روایت کی من فرق فلیس منا جو ماں بچہ میں جدائی کرے وہ ہماری جماعت سے نہیں۔(مرقات)

3362 -[21]

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَهَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غلامين أَخَوَيْنِ فَبعث أَحدهمَا فَقَالَ لي رَسُول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ مَا فَعَلَ غُلَامُكَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ. فَقَالَ: «رُدُّهُ رُدُّهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو غلام جو آپس میں بھائی تھے ۱؎ عطا فرمائے میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کردیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا اے علی تمہارا غلام کیا ہوا میں نے آپ کو یہ خبر دی ۲؎ تو فرمایا اسے واپس لے لو اسے واپس لے لو ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎ اور دونوں چھوٹے تھے یا ایک بڑا اور سمجھ دار تھا دوسرا چھوٹا ناسمجھ جیساکہ گزشتہ حدیث سے معلوم ہوا جب دونوں بڑے ہوں تو ان میں علیحدگی کی جاسکتی ہے۔

۲؎ کہ میں نے اسے فروخت کردیا ہے دوسرا میرے پاس ہے۔

۳؎ یعنی بیع فسخ کر کے اسے واپس لے لو یہ مطلب نہیں کہ وہ بیع منعقد ہی نہیں ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسی بیع مکروہ ہے کہ منعقد ہوچکنے کے بعد اس کا توڑ دینا بہتر ہے دوبارہ فرمانا کہ واپس لے لو واپس لے لو تاکید کے لیے ہے کہ ایسی بیع کا فسخ کردینا بہت ضروری ہے۔بعض روایات میں ہے ادرك ادرك۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف ماں اور بچے میں جدائی کرنا ہی ممنوع نہیں بلکہ ہر دو ذی رحم قرابتداروں میں جدائی نہ کرے،یہ ہی مذہب امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف کا ہے۔(مرقات)

3363 -[22]

وَعَنْهُ أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فردَّ البَيعَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد مُنْقَطِعًا

روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچہ میں جدائی کردی ۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں اس سے منع فرمایا،تو بیع لوٹا لی(ابوداؤد منقطعًا)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن