دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۳؎ اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے:غنی اولاد پر فقیر ماں باپ کا خرچہ واجب ہے اور اگر ماں باپ غنی ہوں انہیں اولاد کے مال کی ضرورت نہ ہو تو ہدایا دیتے رہنا مستحب ہے،اگر باپ اولاد کے مال کی چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہ کٹے گا،اگر باپ اپنے بیٹے کی لونڈی سے صحبت کرے تو اس پر حد زنا نہیں اگر باپ اپنے بیٹے کو قتل کردے تو اس پر قصاص نہیں۔خیال رہے کہ بچہ کو ماں خون پلا کر پالتی ہے باپ مال کھلا کر یعنی جانی خدمت ماں کرتی ہے اور مالی خدمت باپ،اسی وجہ سے ارشاد ہوا کہ جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہیں اور یہاں ارشاد ہوا کہ تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے جیسی پرورش ویسا اس کا شکریہ ۔یہ ہے اس سرکار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کا انصاف۔خیال رہے کہ بوقت حاجت ہر ذی رحم قرابت دار کا نفقہ مالدار عزیز پر واجب ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیۡنَ وَ ابْنَ السَّبِیۡلِ"یہ ہی احناف کا مذہب ہے امام شافعی کے ہاں سوائے ماں باپ کے کسی عزیز کا خرچہ واجب نہیں،امام احمد کے ہاں ہر محتاج عزیز کا خرچہ واجب ہے ذی رحم ہو یا نہ ہو ان تمام مسائل کے دلائل کتب فقہ یا مرقات میں اسی جگہ ملاحظہ فرمایئے۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بچہ کا نسب باپ سے ہے نہ کہ ماں سے۔

۴؎ یہ حدیث صحابہ کرام کی ایک جماعت نے مختلف الفاظ سے نقل فرمائی جو مختلف محدثین نے مختلف اسنادوں سے بیان کئے، چنانچہ ترمذی و ابوداؤد اور نسائی نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کی کہ بہترین روزی وہ ہے جو انسان اپنی کمائی سے کھائے اور انسان کی اولاد اس کی کمائی سے ہے،ترمذی نے اسے حسن فرمایا۔(مرقات)

3355 -[14]

وَعنهُ وَعَن أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ لَيْسَ لِي شَيْءٌ وَلِي يَتِيمٌ فَقَالَ: «كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَادِرٍ وَلَا مُتَأَثِّلٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے انہی سے  وہ اپنے والد سے  وہ ان کے دادا سے راوی کہ ایک شخص نبی کریم صلی علیہ وسلم  کی خدمت میں آیا  بولا میں محتاج ہوں ۱؎  میرے پاس کچھ  نہیں  اور میرے پاس ایک یتیم ہے۲؎  تو فرمایا اپنے یتیم کے مال سے  کھاؤ نہ فضول خرچی کرکے نہ جلد ی کر کے اور نہ مال جمع کرتے ہوئے ۳؎  (ابو داؤد ، نسائی ، ابن ماجہ)

۱؎ یہاں فقیر بمعنی مسکین ہے یعنی میرے پاس کچھ نہیں۔احناف کے ہاں فقیر وہ ہے جس کے پاس مال ہو مگر نصاب سے کم کہ اس پر نہ زکوۃ واجب ہو نہ فطرہ نہ قربانی مگر مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو،امام شافعی کے ہاں اس کے برعکس مگر ان دونوں اماموں کے ہاں ہر ایک لفظ دوسرے کی جگہ استعمال ہوجاتا ہے،یہاں فقیر بجائے مسکین استعمال ہوا۔

۲؎ جس کے پاس وراثت سے ملا ہوا مال ہے اور وہ میرا عزیز قرابتی ہے میری پرورش میں ہے میں اس کا قیم و منتظم ہوں۔

۳؎ یعنی چونکہ تم اس کی خدمت و پرورش کرتے ہو اور نادار ہو اس لیے اس کے مال سے اپنا حق الخدمت لے سکتے ہو مگر تین قسم کی پابندی سے،ایک یہ کہ ضرورت سے زیادہ مال نہ لو۔دوسرے یہ کہ ضرورت سے پہلے مال نہ لو ضرورت کے وقت لو،یا ولا مبادر کے معنے یہ ہیں کہ اس یتیم کے بلوغ سے پہلے اس کا مال ختم کردینے کی کوشش نہ کرو رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَاۡکُلُوۡہَاۤ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنۡ یَّکْبَرُوۡا"۔تیسرے یہ کہ صرف وقتی طور پر استعمال کرو،آئندہ کے لیے جمع نہ کرو،اس سے معلوم ہوا کہ یتیم کا ولی اگر مسکین غریب ہو تو اس کے مال سے بقدر ضرورت استعمال کرے اور بلاضرورت ہاتھ نہ لگائے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن