30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3348 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مرَّتَيْنِ» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب غلام اپنے مولیٰ کی خیر خواہی کرے ۱؎ اور اﷲ کی عبادت اچھی طرح کرے ۲؎ تو اسے ڈبل ثواب ہے ۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ خیر خواہی یہ ہے کہ مولیٰ کا ہر جائز حکم مانے،اس کی چیز برباد نہ ہونے دے،اس کے پس پشت اس کے مال واولاد کی نگرانی کرے۔
۲؎ کہ اﷲ رسول کے احکام پر پابندی سے عمل کرے،مولے کی خدمت کی وجہ سے ان سے بے پرواہ نہ ہوجائے۔
۳؎ کیونکہ اس کی محنت بھی ڈبل ہے خلق کی خدمت خالق کی عبادت۔اس سے معلوم ہوا دنیا دار کی عبادت تارک الدنیا کی عبادت سے افضل ہے۔خیال رہے کہ یہاں مولیٰ کی اطاعت کاذکر رب کی عبادت سے پہلے فرمایا گیا کیونکہ معاملات بمقابلہ عبادات زیادہ اہم ہیں حقوق العبد کی حفاظت حقوق اﷲ سے زیادہ ہے کہ بندہ محتاج ہے رب غنی۔
|
3349 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ بِحُسْنِ عِبَادَةِ رَبِّهِ وَطَاعَة سَيّده نعما لَهُ» |
روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے غلام کے لیے یہ بہت اچھا ہے ۱؎ کہ اﷲ تعالٰی اسے اس حال میں موت دے کہ اپنے رب کی عبادت اور مولا کی اطاعت کرتا ہو یہ اس کے لیے بہت اچھا ہے ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ نعما اصل میں نعم ما تھا نعم کی میم ما کی میم میں مدغم ہوگئی۔
۲؎ دوبار نعما فرمانا یا تو تاکید کے لیے ہے یا پہلے نعما سے دنیا کی بہتری مراد تھی اور اس نعما سے آخرت کی بہتری مراد ہے یعنی اگر غلام مرتے دم تک اپنے مولیٰ کی اطاعت اور رب تعالٰی کی عبادت کرتا رہے تو یہ اس کے لیے بہت اچھا ہے یا یہ دنیا میں بھی اچھا ہے اور آخرت میں بھی اچھا، کسی غلام کو اس کے مولیٰ نے آزاد کردیا غلام بہت رویا اور بولا کہ آپ نے میرے لیے خیر کا دروازہ بند کردیا۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کامل نیکی وہ ہے جو مرتے دم تک کی جائے،نیکی پر ہی موت آئے۔
|
3350 -[9] وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ» . وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: «أَيّمَا عبد أبق فقد بَرِئت مِنْهُ الذِّمَّةُ» . وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: «أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ فَقَدْ كَفَرَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِم» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جریر ۱؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب کوئی غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۲؎ اور ان سے دوسری روایت میں ہے فرماتے ہیں جو غلام بھاگ جائے تو اس کا ذمہ بری ہوگیا۳؎ اور انہیں کی ایک روایت میں یوں ہےفرمایا جو غلام اپنے مولاؤں سے بھاگ جائے وہ کافر ہوگیا ۴؎ حتی کہ ان تک لوٹ آئے ۵؎(مسلم) |
۱؎ آپ جریر ابن عبداﷲ بجلی ہیں، کنیت ابو عمرو، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے چالیس دن پہلے اسلام لائے،پھر بہت عرصہ کوفہ میں رہے،مقام قرقسیا ۵۱ھ میں وفات پائی مشہور صحابی ہیں،آپ سے بہت خلق نے احادیث لیں۔(اکمال)
۲؎ یعنی بھاگے ہوئے غلام کی نماز اگرچہ شرعًا درست ہوجائے مگر اﷲ کے ہاں قبول نہیں،شرائط جواز اور ہیں شرائط قبول کچھ اور۔
۳؎ اس جملہ کا مطلب یا یہ ہے کہ اگر غلام مرتد ہو کر کفار کے ملک میں چلا جائے تو اسلام کی امان سے نکل جاوے گا اس کا قتل جائز ہوگا یا یہ مطلب ہے کہ بھاگا ہوا غلام اگر دارالسلام میں رہے تو اس سے اﷲ کی امان اٹھ جاتی ہے اس کو مارا پیٹا جاسکتا ہے یا مطلب یہ ہے کہ بھاگنے کے زمانہ کا خرچہ مالک پر نہیں اور اس زمانہ کی قباحت و جرم کا اثر مولے پر نہ ہوگا۔
۴؎ کافر سے مراد یا لغوی کافر ہے یعنی ناشکرایا شرعی کافر،تو مطلب یہ ہے کہ قریب الکفر ہوگیا یا اس نے کافروں کا سا کام کیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع