30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ بچے سے مراد یتیم یا بے ماں کے بچے ہیں،اور خاوند کی چیز سے مراد ان کی اپنی ذات ہے یعنی وہ بیویاں خاوند کے لاوارث بچوں کی بھی خوب پرورش کرتی ہیں اوراپنی پارسائی کی حفاظت کرتی ہیں یہ سمجھ کر کہ میں اپنے خاوند کی ہوں۔احناء حنو سے بنا بمعنی شفقت اور ہٗ ضمیر خلق کی طرف لوٹتی ہے یعنی ساری مخلوق میں قرشی عورتیں بچوں پر زیادہ مہربان ہیں یا اس کا مرجع صنف عورت ہے اور صنف مذکر،لہذا ضمیر مذکر ارشاد ہوئی۔
|
3085 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ من النِّسَاء» |
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں نے اپنے پیچھے مردوں پر زیادہ مضر فتنہ عورتوں سے بڑھ کر کوئی نہ چھوڑا ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی دنیا میں مردوں کے لیے عورتیں بڑے فتنہ کا باعث ہیں کہ عورت کے سبب آپس کی عداوت،لڑائی جھگڑے بلکہ خونریزی بہت ہوگی،عورت ہی حب دنیا کا ذریعہ ہے اور حب دنیا تمام گناہوں کی جڑ ہے۔مِنْ بَعْدِیْ فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ حضور کے زمانہ میں عورتوں کے فتنہ کا ظہور صحابہ کرام پر نہ ہوا کہ وہ حضرات نور مصطفوی سے بہت منور تھے بعد میں اس کا ظہورہوا آج بھی عورتوں کی وجہ سے فسادوقتل وخون بہت ہورہے ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ زمین میں پہلا قتل عورت کی وجہ سے ہوا کہ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو اقلیما عورت کی وجہ سے مارا۔شعر
جھگڑے کی بنیادیں تین زن ہے زر ہے اور زمین
عورتوں کے فتنے سے بچنے کا واحد ذریعہ شریعت اسلامیہ کی مضبوطی سے پیروی ہے ۔
|
3086 -[7] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاء» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دنیا میٹھی اور ہری بھری ہے ۱؎اور یقینًا اللہ تعالٰی تم کو اس میں دوسروں کے پیچھے مالک کرے گا۲؎ تو دیکھے گا کہ کیا عمل کرتے ہو لہذا دنیا سے احتیاط کرو ۳؎ اور عورتوں کے بارے میں محتاط رہو کیونکہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کے متعلق ہو۴؎(مسلم) |
۱؎ یعنی دنیا دیکھنے میں بھلی معلوم ہوتی ہے دل کو پسند آتی ہے چونکہ اہل عرب سبزے کو بہت ہی پسند کرتے ہیں اس لیے اسے سرسبز فرمایا گیا،نیز اسے سبز فرمانے میں اشارہ ہے کہ دنیا قریب الفناء ہے جیسے سبزہ بہت جلد خشک ہوجاتا ہے ایسے ہی دنیا بہت جلد ختم ہوجاتی ہے۔
۲؎ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جیسے دنیا تم سے پہلے دوسروں کے پاس تھی پھر ان سے منتقل ہو کرتمہارے پاس آئی،تم گزشتہ لوگوں کے خلیفہ بنے ایسے ہی تم سے منتقل ہو کر دوسرے کے پاس پہنچے گی۔شعر
چناں کہ دست بدست آمد است ملک بما بدست یک دگراں ہم چنیں بخواہد رفت
تم پچھلوں کے خلیفہ ہو،آئندہ نسلیں تمہاری خلیفہ بنیں گی،یا یہ مطلب ہے کہ دنیا کا مالک حقیقی تو حق تعالٰی ہی ہے،تم سب اس کے برتنے میں اس کے خلیفہ یا وکیل ہو،لہذا مالک کی مرضی کے بغیر اسے استعمال نہ کرو،یا صحابہ کرام کو پیش گوئی ہے کہ میرے بعد عرب و عجم کی دولتیں ممالک تمہارے قبضہ میں آنے والے ہیں،ذرا درست رہنا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع