30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لونڈی،غلام پالے ہوئے جانور سب شامل ہیں،بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت اسی لیے دوزخ میں گئی کہ اس نے پالی ہوئی بلی کو بھوکا باندھے رکھا حتی کہ وہ مر گئی،آج کل بعض قصائی جانوروں کو کئی کئی وقت بھوکا پیاسا رکھ کر ذبح کرتے ہیں یہ سخت ظلم ہے،شرعی حکم تو یہ ہے کہ شکم سیر جانور کو بھی ذبح سے پہلے کھانا پانی دکھالو کھلالو۔
۵؎ علماء فرماتے ہیں کہ جانور پر ظلم کرنا انسان پر ظلم کرنے سے زیادہ گناہ ہے کیونکہ انسان تو کسی سے اپنا دکھ درد کہہ سکتا ہے بے زبان جانور کس سے کہے اس کا اﷲ کے سواء فریاد سننے والا کون ہے،بھوکے پیاسے اونٹوں نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے اپنے مالکوں کی شکایت کیں اور سرکار نے ان کے اعلیٰ انتظامات فرمائے صلی اللہ علیہ وسلم۔شعر
خلق کے داد رس سب کے فریاد رس کہف روز مصیبت پہ لاکھوں سلام
ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم رحمۃ عالمین ہیں،آج ہم سگے بھائیوں سے وہ سلوک نہیں کرتے جو سلوک غلاموں سے کیا جاتا تھا۔یہاں صاحب مشکوۃ سے غلطی ہوئی کہ آخر میں رواہ مسلم فرمادیا،مسلم کی روایت قوتہ پر ختم ہوگئی اور کفی بالمرء سے ابوداؤد و نسائی کی روایت ہے۔(مرقات)
|
3347 -[6] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حره ودخانه فليقعده مَعَه فَليَأْكُل وَإِن كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أَكلَة أَو أكلتين».رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کرے پھر وہ کھانا لائے اور اس کی گرمی اور دھواں برداشت کرچکاہو ۱؎ تو اسے اپنے ساتھ بٹھال لے کہ وہ بھی کھائے ۲؎ لیکن اگر کھانا تھوڑا ہو ۳؎ تو اس میں سے خادم کے ہاتھ پر ایک دو لقمے رکھ دے ۴؎(مسلم) |
۱؎ یہاں خادم میں لونڈی غلام بلکہ نوکر چاکر سب شامل ہیں۔
۲؎ یعنی اگر کھانا کافی ہے تو اس پکانے والے خادم کو اپنے ساتھ دستر خوان پر بٹھا کر کھلائے،اسے ساتھ بٹھانے میں اپنی ذلت نہ سمجھے جیسا کہ متکبرین کا حال ہے جب مسجد اور قبرستان میں امیر و غریب،آقا و غلام یکجا ہوجاتے ہیں تو یہاں بھی یکجا ہوں تو کیا حرج ہے۔
۳؎ مشفوہ شفۃٌ سے بنا بمعنی ہونٹ،مشفوہ وہ پانی یا کھانا ہے جس پر بہت سے لوگ کھانے والے جمع ہوجائیں،بہت سے منہ کھائیں،اب تھوڑے کو بھی مشفوہ کہہ دیتے ہیں اسی مناسبت سے یا مشفوہ وہ کھانا ہے جو ہونٹوں اور منہ میں لگ کر رہ جائے اچھی طرح پیٹ میں نہ جائے۔
۴؎ یہ حکم استحبابی ہے جس میں بڑی حکمتیں ہیں ان دو ایک لقموں سے کھانے پر نظر نہ لگے گی مالک کو اچھی طرح ہضم ہوگا، نقصان نہ دے گا نیز یہ مکارم اخلاق سے ہے۔
|
3348 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مرَّتَيْنِ» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب غلام اپنے مولیٰ کی خیر خواہی کرے ۱؎ اور اﷲ کی عبادت اچھی طرح کرے ۲؎ تو اسے ڈبل ثواب ہے ۳؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع