30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معلوم ہوئے: (۱)بیوی کا خرچہ خاوند پر لازم ہے اگرچہ بیوی غنی ہو(۲) چھوٹی اور ضرورتمند اولاد کا خرچہ باپ پر لازم ہے(۳) اہل قرابت کا خرچہ بقدر ضرورت لازم ہے(۴)فتویٰ اور فیصلہ کے وقت اجنبیہ عورت سے کلام کرنا مفتی و قاضی کو جائز ہے۔فتویٰ یا فیصلہ لینے کے لیے حاکم و عالم کے سامنے کسی کے عیب بیان کرنا جائز ہے، حق والا اپنا حق بغیر اس کی اجازت بلکہ بغیر اس کے علم کے بھی لے سکتا ہے،فتویٰ میں شرط کا بیان ضروری نہیں بغیر شرط فتویٰ دیا جاسکتا ہے یعنی یہ لازم نہیں کہ مفتی کہے کہ اگر تو سچا ہے اور صورت حال وہ ہی ہے جو تو کہتا ہے تو حکم یہ ہے بلکہ اس کے بغیر بیان کیے ہوئے حکم شرعی سنا دینا جائز ہے اگرچہ تعلیق افضل ہے۔بچہ کی پرورش کا حق ماں کو ہے لہذا وہ خاوند کا مال اس پر خرچ کرسکتی ہے،بہت سی باتیں عرف و عادت پر مبنی ہوتی ہیں جیسا کہ خرچہ وغیرہ بیوی ضرورت کے موقعہ پر حاکم یا عالم کے پاس جاسکتی ہے،غائب خاوند کے مال سے اس کی بیوی بچوں کا خرچہ دلوایا جائے جب کہ وہ روزی نہ دے گیا ہو نہ بھیجتا ہو۔بعض علماء نے اس حدیث سے قضا علی الغائب جائز مانی وہ فرماتے ہیں کہ یہ حضور کا فیصلہ تھا جو ابوسفیان کی غیرموجودگی میں ان کے خلاف دیا گیا مگر حق یہ ہے کہ یہ فتویٰ تھا۔(مرقات)ورنہ گواہی ضرور لی جاتی، بیوی ضرورت پر اپنے خاوند کا مال فروخت کرسکتی ہے کیونکہ ہندہ روپیہ پیسہ بھی ابوسفیان کی جیب سے نکال سکتی تھیں اور روپیہ پیسہ فروخت ہوکر ہی کام آتا ہے۔
|
3343 -[2] وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا أعْطى الله أحدكُم خيرا فليبدأ بِنَفسِهِ وَأهل بَيته» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب اﷲ تم میں سے کسی کو مال دے تو وہ اپنے نفس اور اپنے گھر والوں سے شروع کرے ۱؎(مسلم)۲؎ |
۱؎ یعنی اپنا مال پہلے اپنے پر خرچ کرو پھر اپنے گھر والوں پر،اہل بیت میں بیوی اور نابالغ حاجت مند اولاد ماں باپ وغیرہ سب داخل ہیں۔
۲؎ یہ حدیث امام احمد نسائی نے حضرت جابر سے مرفوعًا کچھ اختلاف سے بیان کی۔
|
3344 -[3] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «للمملوك طَعَامه وَكسوته وَلَا يُكَلف من الْعَمَل إِلَّا مَا يُطيق» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ غلام کے لیے اس کا کاکھانا کپڑا ہے ۱؎ اور اسے اس قدر کام کی تکلیف نہ دے جس کی وہ طاقت نہ رکھے ۲؎(مسلم) |
۱؎ یعنی مولیٰ پر لونڈی غلام کا بقدر ضرورت درمیانی کھانا کپڑا واجب ہے اس کھانے کپڑے میں عرف کا لحاظ ہے شریعت نے حد مقرر نہیں فرمائی۔(مرقات)
۲؎ یعنی ہمیشہ کے لیے مشکل کام کا حکم نہ دو،اگر ضرورۃً ایک دو دن مشکل کام کرالیا جائے تو جائز ہے خصوصًا جب کہ مولیٰ خود کام میں شریک ہوجائے۔(مرقات)
|
3345 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا يُكَلِّفْهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ» |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمہارے بھائی ہیں جنہیں اﷲ تعالٰی نے تمہارے قبضہ میں دے دیا ۱؎ تو جسے اﷲ اس کے بھائی کا مالک بنا دے تو اسے اس میں کھلائے جو خود کھائے اور اس سے پہنائے جو خود پہنے ۲؎ اور اس کام کی تکلیف نہ دے جو اس پر غالب آجائے اور اگر غالب کام کی تکلیف دے تو اس پر اس کی مدد کرے ۳؎ (مسلم، بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع