دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

ہے تو شاید میرا ث مل جائے امیر معاویہ جواب و فیصلہ میں حیران ہوئے تو حضرت زید ابن ثابت کو خط لکھا مسئلہ پوچھنے کے لیے معلوم ہوا کہ بڑے سے بڑا عالم بھی مسئلہ پوچھنے میں شرم نہ کرے جو مسئلہ معلوم نہ ہو ضرور دریافت کرلے دیکھو حضرت معاویہ فقیہ صحابہ ہیں مگر جو مسئلہ معلوم نہ تھا وہ اپنے سے بڑے عالم سے دریافت کرلیا۔ خیال رہے کہ حضرت زید ابن ثابت میراث کے بڑے عالم تھے۔

۵؎ یعنی جب احوص کی بیوی نے تیسرے حیض کا خون دیکھا تو ان کی عدت طلاق پوری ہوگئی ا ور احوص کی وفات عدت طلاق پوری ہوچکنے کے بعد واقع ہوئی لہذا وہ اس حیض کی حالت میں اپنا نکاح دوسرے سے کرسکتی ہیں اور خاوند احوص کی میراث نہیں پائیں گی کیونکہ ان کی وفات عدت گزرچکنے پر ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ یہ مسئلہ حضرت زید ابن ثابت کے مذہب پر ہے کیونکہ ان کے ہاں عدت طلاق تین طہر ہیں۔تیسرے حیض پر تین طہر پورے ہوچکے تھے،خبر نہیں کہ جناب امیر معاویہ نے حضرت زید کا یہ فتویٰ مانا یا نہیں۔خیال رہے کہ حضر ت عائشہ و ابن عمرو زید ابن ثابت کا قول یہ ہے کہ طلاق کی عدت تین طہر ہیں یہ ہی امام شافعی کا مذہب ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین،اور خلفائے راشدین،عبداﷲ ابن مسعود،ابن زبیر،ابن عباس،ابن ابی ابن کعب معاذ ابن جبل،ابوالدرداء عبادہ ابن صامت،ابو موسیٰ اشعری کا مذہب یہ ہے کہ عدت طلاق تین حیض ہیں یہ ہی امام اعظم کا فرمان ہے رضی اللہ عنہم اجمعین۔ خیال رہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر اور حضرت زید ابن ثابت سے یہ روایتیں بھی منقول ہیں کہ عدت طلاق تین حیض ہیں ان دونوں بزرگوں کے اقوال مختلف ہیں حضرت سعید ابن مسیب ابن جبیر،عطاء طاؤس،عکرمہ مجاہد،قتادہ، ضحاک،حسان ابن حی مقاتل،شریک قاضی،سفیان ثوری،امام اوزاعی ابن شبرمہ،ربیعہ سدی،ابوعبیدہ و اسحاق رحمہم اﷲ تابعین و تبع تابعین تمام بزرگوں کایہ ہی مذہب ہے کہ عدت طلاق تین حیض ہیں اس قول کی بنا پر تیسرے حیض سے فراغت پر عدت پوری ہوتی ہے مگر چونکہ اسی دوران میں خاوند کی وفات ہوگئی اس لیے اب دراز عدت گزارنی ہوگی یعنی چار ماہ دس دن بھی گزارنی ہوگی۔

۶؎ اگر عدت حیض سے ہو اور خاوند نے مرض وفات میں طلاق دی ہو تو ایسی صورت میں عورت کو خاوند کی میراث ملے گی اسے شریعت میں فارباالطلاق کہتے ہیں۔

3336 -[13]

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ رُفِعَتْهَا حيضتُها فإنَّها تنتظِرُ تسعةَ أشهرٍ فإنْ بانَ لَهَا حَمْلٌ فَذَلِكَ وَإِلَّا اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَةِ الْأَشْهَرِ ثلاثةَ أشهرٍ ثمَّ حلَّتْ. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت عمر ابن خطاب نے کہ جو عورت طلاق دی جائے پھر ایک یا دو حیض آجائیں پھر اس کے بعد حیض بند ہوجائیں ۱؎ تو وہ نو مہینے انتظار کرے ۲؎ پھر اگر اس کو حمل ظاہر ہوجائے ۳؎ تو فبھا ورنہ نو مہینے کے بعد تین ماہ عدت گزارے پھر وہ حلال ہو جائے گی ۴؎ (مالک)

۱؎  رفعتھا  دراصل رفعت عنہا تھا عن پوشیدہ ہوگیا اور ھا ضمیر منصوب ہوگئی جسے منصوب بنزع الخافض کہتے ہیں۔

۲؎ صورت مسئلہ یہ ہوئی کہ طلاق کی عدت تھی تین حیض،دو حیض آچکے تھے،تیسرا حیض نہ آیا لہذا عدت پوری نہ ہوئی یہ عورت نو ماہ اور انتظار کرے کہ شاید اس کو زنا کا حمل رہ گیا ہو یا خاوند کا ہی حمل ہو اور دوبارہ استحاضہ خون آگیا ہو جسے یہ حیض سمجھتی ہو۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن