30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی عام طورپر لوگ عورت کے مال،جمال اور خاندان پر نظر رکھتے ہیں ان ہی چیزوں کو دیکھ کر نکاح کرتے ہیں مگر تم عورت کی شرافت ودینداری تمام چیزوں سے پہلے دیکھو کہ مال و جمال فانی چیزیں ہیں دین لازوال دولت،نیز دیندار ماں دیندار بچے جنتی ہے ڈاکٹر اقبال نے کیا خوب فرمایا شعر۔
بے ادب ماں با ادب اولاد جن سکتی نہیں معدن زر معدن فولاد بن سکتی نہیں
ماں فاطمہ جیسی ہو تو اولاد حسنین جیسی ہوتی ہے،ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں۔شعر
بتولے باش پنہا ں شوازیں عصر کہ در آغوش شبیرے بگیری
۲؎ یعنی اگر تم ہمارے اس فرمان پر عمل نہ کرو تو پریشان ہوجاؤ گے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو عورت کا صرف مال دیکھ کر نکاح کرے گا وہ فقیر رہے گا،جو صرف خاندان دیکھ کر نکاح کرے گا وہ ذلیل ہوگا اور جو دین دیکھ کر نکاح کرے گا اسے برکت دی جائے گی ( مرقات ) مال ایک جھٹکے میں،جمال ایک بیماری میں جاتا رہتا ہے۔
|
3083 -[4] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّنْيَا كُلُّهَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَة الصَّالِحَة» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دنیا ایک برتنے کا سامان ہے ۱؎ اور دنیا کا بہترین سامان نیک بی بی ہے ۲؎ (مسلم) |
۱؎ کہ انسان اسے برت کر چھوڑ جاتا ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:" قُلْ مَتٰعُ الدُّنْیَا قَلِیۡلٌ"۔صوفیا فرماتے ہیں کہ اگر دنیا دین سے مل جائے تو لازوال دولت ہے قطرے کو ہزار خطرے ہیں دریا سے مل جائے تو روانی طغیانی سب کچھ اس میں آجاتی ہے اور خطرات سے باہر ہوجاتا ہے۔
۲؎ کیونکہ نیک بیوی مرد کو نیک بنادیتی ہے وہ اخروی نعمتوں سے ہے۔ حضرت علی نے "ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ"کی تفسیر میں فرمایا کہ خدایا ہم کو دنیا میں نیک بیوی دے آخرت میں اعلیٰ حور عطا فرما اور آگ یعنی خراب بیوی کے عذاب سے بچا۔( مرقات) جیسے اچھی بیوی خدا کی رحمت ہے ایسی ہی بری بیوی خدا کا عذاب۔
|
3084 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«خَيْرُ نسَاء ركبن الْإِبِل صَالح نسَاء قُرَيْش أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سے اچھی عورتیں زنان قریش ہیں ۱؎ اولاد پر بچپن میں بہت مہربان اور خاوند کے مقبوضہ مال کی بہترین محافظ ۲؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ یعنی عرب کی عورتوں میں قریش خاندان کی عورتیں بہت اعلیٰ ہیں،چونکہ اہل عرب کی عام سواری اونٹ ہے اس لیے یوں ارشاد فرمایا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں،حضرت مریم تو قریشی بیویوں سے افضل تھیں۔(مرقات) خیال رہے کہ عورت کو گھوڑے کی سواری ممنوع ہے"لعن اﷲ الفروج علی السروج"۔
۲؎ یہ قریشی عورتوں کی بہتری کی وجہ کا بیان ہے اس جملہ کی بہت شرحیں ہیں آسان ترین شرح یہ ہے کہ قرشی عورتیں بچوں پر مہربان ہوتی ہیں ان کی پرورش بہت عمدہ طریقہ سے کرتی ہیں اور خاوند کی خیر خواہ کہ اس کی جان تو کیا اس کے مال کی بھی حفاظت کرتی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع