30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خاوند کی موت کی خبر پائے،ہوسکتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو بعد میں پتہ لگا ہو کہ مکان والا ان بی بی صاحبہ کو مکان سے نکالے گا نہیں تب یہ حکم دیا ہو،ورنہ اگر معتدہ کرایہ یا عاریۃً کے مکان میں ہو اور مالک مکان اب نہ رہنے دیتا ہو تو عورت کو منتقل ہوجانے کی اجازت ہے۔
۸؎ زمانہ عثمانی میں حضرت عثمان غنی نے ان بی بی صاحب کو بلا کر یہ حدیث ان سے سنی اور اس پر ہی عمل کا حکم دیا کہ معتدۂ وفات کو عدت میں مکا ن سے نہ نکالاجائے۔یہ ہی قول ہے حضرت عمر عثمان،عبداﷲ ابن عمرو ابن مسعود رضی اللہ عنہم کا۔(مرقات)
۹؎ یہ حدیث ابن حبان و حاکم نے بھی نقل کی،حاکم نے فرمایا کہ حدیث صحیح ہے امام ذہبی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح و محفوظ ہے۔ دارقطنی کی روایت میں ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ معتدہ جہاں چاہے غسل کرے اس کی اسناد میں ابو مالک نخعی اور محبوب ابن محرز ہیں یہ دونوں ضعیف ہیں،نیز اس میں عطاء ابن صائب مختلط ہے اور ابوبکرابن مالک ضعیف تر ہے اسی لیے اسے دار قطنی نے ہی معلل فرمادیا۔غرضکہ وہ حدیث کسی طرح قابل عمل نہیں(مرقات)
|
3333 -[10] وَعَن أُمِّ سلمَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جعلتُ عليَّ صَبِراً فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟» . قُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ صَبِرٌ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ فَقَالَ: «إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ وَتَنْزِعِيهِ بِالنَّهَارِ وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خضاب» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ جب ابو سلمہ فوت ہوئے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ایلوالگا رکھا تھا ۱؎ تو فرمایا اے ام سلمہ یہ کیا ہے ؟ میں بولی وہ ایلوا ہے جس میں خوشبو نہیں ۲؎ تو فرمایا کہ یہ چہرے کو رنگین تو کرتا ہے لہذا یہ نہ لگاؤ مگر رات میں ۳؎ اور دن میں چھوڑ دو اور نہ خوشبو دار تیل اور نہ مہندی لگاؤ کہ مہندی خضاب ہے ۴؎ میں بولی کہ پھر کنگھی کس چیز سے کروں یا رسول اﷲ ؟ ۵؎ فرمایا بیری سے کہ اس سے اپنے سر کا لیپ کرلو ۶؎ (ابوداؤد،نسائی)۷؎ |
۱؎ یعنی کسی وجہ سے اپنے چہرے پرایلو کا لیپ کیا ہوا تھا۔(مصبر)مشہور کڑوی دوا ہے۔
۲؎ یعنی عدت میں خوشبو لگانا منع ہے اور ایلوے میں خوشبو ہے نہیں اس وجہ سے میں نے اس کا لیپ کرلیا۔
۳؎ یعنی عدت میں صرف خوشبو ہی ممنوع نہیں بلکہ زینت بھی ممنوع ہے ایلوا خوشبودار تو نہیں مگر چہرے کا رنگ نکھار دیتا ہے اسے رنگین بھی کردیتا ہے لہذا زینت ہونے کی وجہ سے اس کا لیپ ممنوع ہے اگر لیپ کی ضرورت ہی ہو تو رات میں لگالیا کرو کہ وہ وقت زینت کا نہیں،دن میں دھو ڈالا کرو یشب شیوب سے بنا بمعنی آگ بھڑکا دینا اسی لیے جوانی کو شباب کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں شہوت بھڑکی ہوتی ہے۔(اشعہ)
۴؎ یعنی زمانہ عدت میں خوشبودار تیل بدن کے کسی حصہ خصوصًا سر میں استعمال نہ کرو اور ہاتھ پاؤں اور سر میں مہندی نہ لگاؤ کہ مہندی میں بھینی خوشبو بھی ہے رنگت بھی۔
۵؎ یعنی عورت کو سر دھونے گنگھی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب یہ چیزیں مجھے ممنوع ہوگئیں تو یہ ضرورت کیسے پوری کروں۔
۶؎ تغلفین غلف سے بنا پردہ و غلاف یعنی بیر ی کے پتے اتنی تھوپ سکتی ہو کہ تمام بال چھپ جائیں اور بیری سر کا غلاف بن جائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع