30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی عورت کسی عزیز و قرابتدار کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے باپ بیٹا بھائی کوئی بھی فوت ہوجائے اس پر تین دن تک سوگ یعنی ترک زینت کرسکتی ہے مگر خاوند کی موت پر پوری عدت کے زمانہ میں سوگ کرے کہ نہ خوشبو لگائے نہ زینت کا لباس پہنے یہ مدت غیر حاملہ کے لیے ہے حاملہ کی عدت تو حمل جن دینا ہے وہ اس وقت تک سوگ کرے۔ اس حدیث سے ان نادان سنیوں کو عبرت لینی چاہیے جو محرم میں دس دن کوٹتے پیٹتے ہیں چار پائی پر نہیں سوتے اچھا لباس نہیں پہنتے کالے کپڑے پہنتے ہیں یہ سب حرام ہے اور روافض کی پیروی حضرات اہل بیت اطہار نے کبھی نہ کئے۔
|
3331 -[8] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أُمِّ عطيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَلَا تكتحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: «وَلَا تختضب» |
روایت ہے ام عطیہ سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے بجز خاوند کے کہ اس پر چار ماہ دس دن کرے اور رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے سوائے بناوٹی رنگین کپڑے کے ۲؎ اور نہ سرمہ لگائے ۳؎ نہ خوشبو لگائے مگر جب کہ پاک ہو تو ایک ٹکڑہ قسط یا اظفار کا ۴؎(مسلم،بخاری)ابوداؤد نے زیادہ فرمایا کہ نہ خضاب کرے ۵؎ |
۱؎ اپ کا نام نسیبہ بنت کعب ہے، کنیت ام عطیہ، اکثر غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہیں، بیماروں کی دوا، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں آخر میں بصرہ میں رہیں وہاں ہی انتقال فرمایا۔
۲؎ عصب کی شرح میں شارحین کا اختلاف ہے۔ مرقات نے فرمایا کہ عصب ایک گھاس ہے جو عمومًا یمن میں پیدا ہوتی ہے اس کا رنگ مائل بہ سیاہی ہوتا ہے، اس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں جس سے پھیکا سیاہ رنگ ہوتا ہے یعنی بھکنا چونکہ یہ رنگ زینت میں داخل نہیں اس لیے اس کی اجازت دی گئی،اس بنا پر فقہاء فرماتے ہیں کہ عدت میں سیاہ رنگ کے کپڑے پہننا جائز ہے مگر اشعۃ اللمعات ولمعات میں فرمایا کہ عصب وہ کپڑا ہے جس کا سوت رنگ لیا جائے بعد میں بنا جائے ایسے رنگین کپڑے زینت میں داخل نہیں ہوتے بننے کے بعد رنگنا زینت ہے،امام شافعی کے ہاں ایسا کپڑا پہننا مطلقًا جائز ہے باریک ہو یا موٹا امام مالک کے ہاں موٹا جائز باریک ممنوع، ہمارے امام صاحب کے ہاں بہتر یہ ہے کہ عدت میں ایسے لباس سے بھی بچے۔
۳؎ زینت کے لیے سیاہ سرمہ نہ لگائے سفید سرمہ لگائے جس سے زینت نہ ہو،یوں ہی علاج کے لیے ضرورت کے موقعہ پر سرمہ لگالینا جائز ہے جب کہ آنکھ میں بیماری ہو اور سواء سرمہ کے اور کوئی علاج نہ ہو بعض علماء نے اس حدیث کی بنا پر سرمہ کو مطلقًا ممنوع قرار دیا۔
۴؎ قسط اور اظفار مشہور خوشبو دار لکڑیاں ہیں اظفار کی لکڑی سیاہ رنگ کی ہوتی ہے کٹے ہوئے ناخن کے مشابہ اس لیے اسے اظفار کہتے ہیں یعنی عدت والی عورت جب حیض سے فارغ ہو تو یہ خوشبو شرمگاہ پر مل سکتی ہے کہ اس سے صرف بدبو کا دفع کرنا مقصود ہے نہ کہ جسم کا مہکانا۔خیال رہے کہ جمہور علماء کا مذہب یہ ہی ہے کہ ہر وفات والی معتدہ عورت پر سوگ واجب ہے ،بعض احناف فرماتے ہیں کہ مؤمنہ بالغہ معتدہ پر عدت میں سوگ ہے کتابیہ یا نابالغہ پر سوگ نہیں وہ حضرات اس حدیث کے ظاہری الفاظ سے دلیل پکڑتے ہیں کہ حضور نے فرمایا جو عورت اﷲ تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو وہ سوگ کرے۔واﷲ اعلم!
۵؎ یعنی نہ بالوں میں مہندی یا وسمہ لگائے نہ ہاتھ پاؤں مہندی سے رنگے کہ یہ بھی زینت میں داخل ہے اور زینت اس کے لیے ممنوع ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع