دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3329 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أُمِّ سلمةَ قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُهَا أَفَنَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ:«لَا» قَالَ: «إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وعشرٌ وَقد كَانَت إِحْدَاهُنَّ فِي الجاهليَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ»

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں بولیں یارسول اﷲ میری اس بچی کا خاوند فوت ہوگیا ہے اورا س کی آنکھیں دکھتی ہیں تو کیا ہم اسے سرمہ لگائیں ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا نہیں دو بار یا تین بار ہر دفعہ یہ ہی فرماتے تھے نہیں ۲؎ پھر فرمایا اب تو چار ماہ دس دن ہی ہیں زمانہ جاہلیت میں تو تم میں سے ہر ایک پورے سال پر مینگنی پَھینکتی تھی ۳؎(مسلم)

۱؎ یعنی عورت پر عدت میں سوگ واجب ہے ترک زینت اور سرمہ بھی زینت میں داخل ہے مگر مجبوری یہ ہے کہ اس مجبوری میں سرمہ لگانا جائز ہے یا نہیں۔

۲؎ یعنی وہ بار بار سوال دھراتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہر بار انکار فرمادیتے تھے، اس حدیث کی بنا پر امام احمد فرماتے ہیں کہ سیاہ سرمہ جس میں زینت ہوتی ہے عدت وفات میں ہرگز جائز نہیں خواہ بیماری ہو یا نہ ہو، امام مالک کے ہاں بیماری میں جائز ہے، امام شافعی کے ہاں بیماری میں رات کو لگالے دن میں صاف کردے ہمارے ہاں بھی بیماری میں دواءً لگانا درست ہے بشرطیکہ سرمہ کے سواء اور کوئی دوامفید نہ ہو یہاں دوسری دوا مفید ہوگی اس لیے منع فرمایا۔

۳؎ اسلام سے پہلے عرب میں بیوہ عورت خاوند کے انتقال کے بعد ایک سال تک برے مکان برے لباس میں رہتی اور تمام گھر والوں سے علیحدگی اختیار کرتی تھی سال کے بعد اس کے قرابتدار جمع ہوتے اور کوئی جانور اس کے پاس لاتے جسے وہ اپنی شرمگاہ سے لگاتی تھی اکثر وہ جانور مرجاتا تھا پھر اس کے قرابتدار اسے اونٹ یا بکری کی مینگنی دیتے تھے جسے وہ اپنے ہاتھ سے پَھینکتی تھی یہ مینگنی کا پھینکنا عدت کا پورا ہونا ہوتا تھا اس ارشاد عالی میں اس جانب اشارہ ہے یعنی اب تو تم چار ماہ دس دن کی عدت میں صبر نہیں کرسکتیں مگر زمانہ جاہلیت میں ایک سال تک عدت گزارتیں اور عدت کے زمانہ میں سخت پابندیاں برداشت کرتی تھیں۔خیال رہے کہ اسلام میں بھی پہلے وفات کی عدت ایک سال تھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"مَتٰعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیۡرَ اِخْرَاجٍ"پھر یہ حکم منسوخ ہو کر چار ماہ دس دن ہوا،اب بیوہ عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہے خواہ صحبت و خلوت ہوئی ہو یا نہ بشرطیکہ عورت حاملہ نہ ہو حاملہ بیوہ کی عدت حمل جن دینا ہے عدت کے پورے مسائل ہمارے فتویٰ نعیمہ میں ملاحظہ کیجئے۔

3330 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَزَيْنَبَ بِنْتِ جحش عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

روایت ہے حضرت ام حبیبہ اور زینب بنت جحش سے ۱؎ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں نہیں حلال کسی ایسی عورت کو جو اﷲ و قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۲؎ یہ کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے خاوند کے اس پر چار ماہ دس دن ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ دونوں بیبیاں امہات المؤمنین میں سے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ انکے حالات پہلے بیان ہو چکے۔

۲؎ لا یحل اور اﷲ قیامت پر ایمان فرمانا آئندہ حکم کی تائید کے لیے ہے یعنی یہ حکم اشد ضروری ہے اس پر عمل ہر مؤمن عورت کو چاہیے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن