30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3325 -[2] وَعَن عائشةَ قَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحِشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم تَعْنِي النُّقْلَةِ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَتْ: مَا لِفَاطِمَةَ؟ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ تَعْنِي فِي قَوْلِهَا: لَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ فاطمہ ایک سنسان مکان میں تھیں ۱؎ ان کے آس پاس پر خوف کیا گیا ۲؎ اس لیے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اجازت دی یعنی منتقل ہو جانے کی ۳؎ اور ایک روایت میں ہے فرماتی ہیں کیا ہوا فاطمہ کو کیا وہ اﷲ سے نہیں ڈرتیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ مطلقہ کو نہ مکان ہے نہ خرچہ ۴؎(بخاری) |
۱؎ وحش کے معنے ہیں خالی،اجاڑ جہاں رہنے سے وحشت و دہشت طاری ہو،اسی سے ہے وحشی جانور یعنی لوگوں سے متنفر اور انسانوں سے الگ رہنے والا۔
۲؎ یعنی چونکہ وہ گھر بستی اور آبادی میں نہ تھا اس لیے چوری وغیرہ کا خطرہ تھا۔
۳؎ یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا بنت قیس کو زمانہ عدت میں جو حضرت ابن ام مکتوم کے گھر چلے جانے کی اجازت دی گئی اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ غیر حاملہ مطلقہ کو عدت گزارنے کے لیے خاوند کی طرف سے گھر نہیں ملتا گھر تو ملا تھا مگر خطرناک تھا ،اب بھی فقہاء فرماتے ہیں کہ عدت میں عورت ان مجبوریوں میں دوسرے گھر منتقل ہو کر عدت گزار سکتی ہے۔
۴؎ یعنی فاطمہ جو فتوی دیتی ہے کہ غیر حاملہ مطلقہ کو عدت کے زمانہ میں نہ خرچہ ملے نہ مکان اور اس فتویٰ کی سند میں اپنا مذکورہ واقعہ بیان کرتی ہیں اور اس حکم کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کرتی ہیں غلط ہے ان کے منتقل ہونے کی وجہ کچھ اور تھی وہ پوری بات بیان نہیں کرتیں ۔معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ام المؤمنین کا مذہب بھی یہ ہی ہے کہ طلاق کی عدت میں گھر اور خرچہ دونوں خاوند کے ذمہ ہے یہ ہی امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے لہذا حدیث فاطمہ امام اعظم کے خلاف نہیں۔
|
3326 -[3] وَعَن سعيدِ بنِ المسيِّبِ قَالَ: إِنَّمَا نُقِلَتْ فَاطِمَةُ لِطُولِ لِسَانِهَا عَلَى أحمائِها. رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے فرماتے ہیں کہ فاطمہ منتقل کی گئی اپنے دیوروں پر زبان درازی کی وجہ سے ۱؎(شرح سنہ) |
۱؎ یعنی فاطمہ اکیلے گھر میں تھیں اور ان کے دیور وغیرہ ان کے پاس تھے مگر تھیں سخت طبیعت،سخت زبان جب انہیں طلاق ہوگئی تو دیوروں نے ان کے پاس رہنا گوارا نہ کیا ان کی سختی کی وجہ سے اب بالکل اکیلی رہ گئیں تب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں وہاں سے منتقل ہوجانے کی اجازت دی بلکہ حکم فرمادیا لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ وہ سنسان مکان میں تھیں بہرحال جناب فاطمہ کا گھر سے منتقل ہوجانا کسی مجبوری و معذوری کی وجہ سے تھا ورنہ عدت کا خرچہ و مکان خاوند کے ذمہ ہے۔اس جگہ مرقات نے فرمایا کہ حضرت عمر نے فاطمہ کی یہ حدیث رد فرمادی اور فرمایا کہ ہم ایک عورت کے قول سے کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ نہیں چھوڑ سکتے کیا خبر انہیں یاد رہا یا بھول گئیں عدت طلاق میں گھر اور خرچہ ملنا کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ سے ثابت ہے۔حضرت اسامہ نے جناب فاطمہ سے نکاح کرلیا مگر ان کی یہ حدیث انہوں نے بھی قبول نہ کی۔ حضرت ابن مسعود جابر، عائشہ صدیقہ، اسامہ ابن زید حضرت عمرو غیرہم جمہور صحابہ کا یہ ہی مذہب ہے کہ عدت طلاق میں خرچہ و مکان ملے گا ۔حدیث فاطمہ رضی اللہ عنھا مضطرب ہے، بعض روایات میں ہے فاطمہ کے خاوند نے طلاق دی پھر سفر کو گئے ،بعض میں ہے کہ سفر میں جا کر طلاق بھیجی، بعض روایات میں ہے کہ خود فاطمہ نے مسئلہ حضور سے پوچھا،بعض میں ہے کہ خالد ابن ولید نے پوچھا، بعض روایات میں ہے کہ ان کے خاوند ابو عمر ابن حفص نے طلاق دی، بعض میں ہے کہ ابو جعفر ابن مغیرہ نے انہیں طلاق دی اس وجہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع