دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3324 -[1]

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيْلُهُ الشَّعِيرَ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ» فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ: «تِلْكِ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي» . قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ: «أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ» فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ: «انْكِحِي أُسَامَةَ» فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا: «فَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلا»

روایت ہے حضرت ابو سلمہ سے وہ حضرت فاطمہ بنت قیس ۱؎ سے راوی کہ ابو عمرو ابن حفص نے انہیں طلاق بات دے دی جبکہ وہ غائب تھے ۲؎ تو ان کے وکیل نے حضرت فاطمہ کو کچھ جو بھیجے وہ ان پر ناراض ہوئیں تو وکیل نے کہا اﷲ کی قسم تمہارا ہم پر کچھ حق نہیں ۳؎ تو وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا حضور نے فرمایا تمہارے لیے خرچہ نہیں ۴؎ پھر انہیں حکم دیا ام شریک کے گھر عدت گزاریں ۵؎ پھر فرمایا کہ وہ ایسی بی بی ہیں جن کے پاس ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں ۶؎ تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو وہ نابینا آدمی ہیں ۷؎ تم اپنے یہ کپڑے اتار دو ۸؎ پھر جب تم فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دینا فرماتی ہیں کہ جب میں فارغ ہوگئی تو میں نے حضور سے عرض کیا کہ معاویہ ابن ابوسفیان اور ابوجہم نے پیغام دیا ۹؎ تو فرمایا کہ ابوجہم ۱۰؎ اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے اتارتے ہی نہیں ۱۱؎ رہے معاویہ وہ بہت تنگدست ہیں جن کے پاس مال نہیں ۱۲؎ تم اسامہ ابن زید سے نکاح کرلو میں نے انہیں ناپسند کیا ۱۳؎ حضور نے پھر فرمایا کہ اسامہ سے نکاح کرلو میں نے ان سے نکاح کرلیا تو اﷲ نے اس نکاح میں بہت خیر دی کہ مجھ پر رشک کیا گیا ۱۴؎ اور ان ہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ ابو جہم بیویوں کو بہت مارنے والے ہیں(مسلم)اور ایک روایت میں ہے کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دیں ۱۵؎ تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں حضور نے فرمایا تمہارے لیے خرچہ نہیں مگر اس صورت میں کہ حاملہ ہوتیں ۱۶؎

۱؎ آپ ابوسلمہ ابن عبدالرحمان ابن عوف مدنی ہیں جلیل القدر تابعی مدینہ پاک کے سات مشہور فقہاء میں سے ہیں اور فاطمہ بنت قیس قرشیہ ہیں۔حضرت ضحاک کی بہن ہیں بہت جمال عقل و کمال والی بی بی ہیں،مہاجرین اولین سے ہیں،پہلے ابو عمرو ابن حفص کے نکاح میں تھیں انہوں نے طلاق دے دی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا نکاح اسامہ ابن زید سے کیا رضی اللہ عنہم اجمعین۔

۲؎ طلاق بات وہ طلاق ہے جو نکاح کو بالکل ہی ختم کردے جس کے بعد بغیر حلالہ نکاح نہ ہوسکے یعنی تین طلاقیں یا تیسری طلاق،یہاں پہلے معنے مراد ہیں یعنی تین طلاقیں(لمعات اور مرقات)

۳؎ یعنی ابو عمرو کے وکیل نے عدت کے خرچہ کے لیے تھوڑے سے جو بھیج دیئے جو حضرت فاطمہ نے ناپسند کیے کہ جو تھے وہ بھی تھوڑے وکیل نے کہا کہ یہ بھی ہماری مہربانی ہے ورنہ تم اس کی بھی حقدار نہیں ہو کیونکہ تم حاملہ نہیں اور عدت کا خرچہ مطلقہ حاملہ کو ہے۔

۴؎ یعنی تم کو وہ خرچہ نہیں ملے گا جو تم چاہتی ہو،معمولی خرچہ مل چکا اس حدیث کی بنا پر حضرت ابن عباس و احمد نے فرمایا کہ غیر حاملہ مطلقہ کو نہ عدت میں خرچہ ملے گا نہ گھر، امام مالک و شافعی نے فرمایا کہ گھر تو ملے گا مگر خرچہ نہ ملے گا، ہمارے امام اعظم کا فرمان ہے کہ خرچہ و گھر دونوں ملیں گے،یہ ہی فرمان ہے حضرت عمر کا،جناب عمر نے فرمایا کہ ہم قرآن و حدیث کے مقابل صرف ان فاطمہ کا قول قبول نہیں کرسکتے،قرآن فرماتاہے:"اَسْکِنُوۡہُنَّ مِنْ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ"اور میں نے سرکار کو فرماتے خود سنا کہ ہر مطلقہ کے لیے گھر بھی ہے خرچہ بھی۔یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں کیونکہ یہاں فاطمہ کے مطلوبہ خرچہ کی نفی ہے اور گھر سے منتقل کردینا کسی مجبوری سے تھا جیسا کہ آگے آرہا ہے امام شافعی کی دلیل یہ آیت ہے:"وَ اِنۡ کُنَّ اُولٰتِ حَمْلٍ فَاَنۡفِقُوۡا عَلَیۡہِنَّ"۔جس سے معلوم ہوا کہ صرف حاملہ مطلقہ کو عدت کا خرچہ ملے گا غیر مطلقہ کو نہیں، ہمارے امام صاحب فرماتے ہیں کہ غیر حاملہ کو خرچہ نہ ملنا اس آیت سے ثابت نہیں ہوتا یہاں حاملہ کا ذکر اس لیے ہے کہ کبھی حمل کی مدت دراز ہوجاتی ہے فرمایا گیا خواہ کتنا ہی لمبا زمانہ حمل ہو خرچہ دیئے جاؤ۔(مرقات)

۵؎ اس کی وجہ آگے آرہی ہے کہ حضور نے فاطمہ کو ان کے خاوند کے گھر سے کیوں منتقل فرمایا۔

۶؎ صحابہ سے مراد ام شریک کے بال بچے عزیز و قرابتدار ہیں۔(مرقات)کیوں ام شریک غنیہ سخیہ مہمان نواز بی بی تھیں۔

۷؎ تم کو دیکھ نہیں سکتے اور دوسرے صحابہ ان کے گھر آتے جاتے نہیں لہذا تمہاری وہاں بے پردگی نہ ہوگی۔خیال رہے کہ یہاں حضرت فاطمہ کو یہ اجازت نہ دی گئی کہ وہ ابن ام مکتوم کو دیکھیں،لہذا حدیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہے"یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصٰرِہِنَّ"اور نہ اس حدیث ام سلمہ کے خلاف ہے افعمیا و انتما عورت بھی اجنبی مرد کو نہیں دیکھ سکتی۔

۸؎ یہ نیا حکم ہے یعنی زمانہ عدت میں زینت کا لباس اتار دو یا گزشتہ کا حال یعنی تم وہاں آزاد ہوگی وہاں کوئی جاتا آتا نہیں تمہیں کوئی دیکھے گا نہیں۔

۹؎ یعنی عدت گزر چکنے کے بعد مجھے ان دو شخصوں نے پیغام نکاح دیا ہے حضور کی رائے کیا ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن