30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رکھے یہ امر نسبت کے لیے ہے۔یعنی جس میں نکاح کے مصارف برداشت کرنے کی طاقت ہو وہ نکاح کرے،یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ نوافل سے نکاح افضل ہے،شوافع کے ہاں نوافل میں مشغول رہنا نکاح سے افضل ہے۔
۳؎ یعنی بیوی والا آدمی پاک دامن و نیک ہوتا ہے نہ تو غیر عورتوں کو تکتا ہے،نہ اس کا دل بدکاری کی طرف مائل ہوتا ہے،غرضیکہ نکاح آدمی کے لیے حفاظتی قلعہ ہے۔
۴؎ وِجَاءٌ کے معنے ہیں خصیے کوٹ دینا جس سے نامرد ہوجائے یعنی روزہ انسان کی شہوت کو اس طرح مار دیتا ہے جیسے خصی کردینا، کیونکہ بھوک سے نفس ضعیف ہوتا ہے اور شہوت قوت نفس سے زیادہ ہوتی ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ نفس کو توڑنے کے لیے بھوک سے زیادہ کوئی چیز نہیں اسی لیے قریبًا ہر دین میں روزہ کا حکم ہے۔
|
3081 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: رَدَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَان ابْن مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا |
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عثمان ابن مظعون کو بے نکاح رہنے کی اجازت نہ دی ۱؎ اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہوجاتے ۲؎ ( مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی حضرت عثمان ابن مظعون نے جو سردران مہاجرین سے ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے ترک دنیا کی زندگی گزارنے کی اجازت چاہی کہ نکاح نہ کریں ساری عمر عبادات و ریاضات میں گزاریں،حضور علیہ السلام نے اس سے منع فرمادیا۔خیال رہے تبتل بناہے تبل سے بمعنی انقطاع و علیحدگی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ تَبَتَّلْ اِلَیۡہِ تَبْتِیۡلًا"اب دنیا سے علیحدگی کو تبل کہا جاتا ہے، اسی سے ہے بتول حضرت مریم علیہا السلام کو بتول کہتے ہیں کہ وہ نکاح سے علیحدہ رہیں،فاطمہ زہرا کا لقب بھی بتول ہے کہ آپ دنیاوی الجھنوں سے علیحدہ رہیں کبھی دنیا میں دل نہ لگایا۔
۲؎ یا تو خصی ہونے سے ظاہر ی معنے مراد ہیں کہ ہم لوگ ترک دنیا کے لیے خود کو خصی کرلیتے ہیں شاید ان بزرگوں کو اس وقت یہ مسئلہ معلوم نہ تھا کہ انسان کو اور حرام جانوروں کو خصی کرنا حرام ہے اور حلال جانوروں کا خصی کرنا ان کے بچپن میں جائز ہے بڑے ہونے پر حرام اس لیے یہ فرمارہے ہیں،یا خصی ہونے سے مراد ہے بالکل ہی عورتوں سے علیحدگی یعنی ہم گویا خصی ہوجاتے ۔ (لمعات و مرقات)یہ حدیث بھی امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کی دلیل ہے کہ نوافل سے نکاح افضل ہے۔حدیث شریف میں نکاح کے بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں خود ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا عمل بتارہا ہے کہ نکاح اعلیٰ عبادت ہے ورنہ حضور ترک دنیا کی زندگی گزارتے لہذاقول امام اعظم بہت قوی ہے۔
|
3082 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَات الدّين تربت يداك " |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے عورت سے چار وجہوں سے نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال پر خاندان پر حسن پر اور دین پر تم دِین والی کو اختیار کرو ۱؎ گرد آلود ہوں تمہارے ہاتھ ۲؎ ( مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع