30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ تو اس کو لعان کا حکم دیا نہ اسے حد قذف یعنی تہمت کی سزا دی اگر وہ زنا کا الزام دیتا تو ان دونوں چیزوں میں اسے کچھ کرنا پڑتا۔(مرقات و لمعات واشعہ)
۲؎ معلوم ہوا کہ فاسِقہ بدکار بی بی کو طلاق دے دینا بہتر ہے اسی طرح جو عورت گھر کو نہ سنبھال سکے اسے طلاق دے دینا بہتر ہے جیسے کہ پہلے جملہ کی دو شرحوں سے معلوم ہوا۔
۳؎ یا اس کے حسن و جمال کی وجہ سے یا اس لیے کہ اس سے میرے بچے ہیں اسے علیحدہ کردینے سے بچے برباد ہوں گے مجھے اپنے متعلق خطرہ ہے کہ گناہ میں پھنس جاؤں۔
۴؎ یعنی اسے بدکاری یا لاپرواہی گھر برباد کرنے سے روک اور طلاق نہ دے،معلوم ہوا کہ فاسِقہ عورت کو طلاق دے دینا واجب نہیں خصوصًا جب کہ خاوند اس کے بغیر صبر نہ کرسکے اس کو طلاق دے دینے پر اپنے فسق و فجور میں گرفتار ہوجانے کا قوی خطرہ ہو۔لہذا حدیث بالکل بے غبار ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فاسِقہ بیوی اسی طرح فاسق اولاد کو ہر ممکن تدبیر کے ذریعہ گناہوں سے روکنا ضروری ہے۔
۵؎ یعنی حدیث کا اتصال حضرت ابن عباس تک ثابت نہیں حدیث منقطع ہے یہ مطلب نہیں کہ اصل حدیث ہی ثابت نہیں یہ حدیث امام شافعی نے اپنی سند میں سفیان ابن عیینہ عن ہارون ا بن زیات عن عبداﷲابن عبید اﷲ ابن عمیر کچھ مختلف الفاظ سے نقل فرمائی(مرقاۃ واشعہ)
|
3318 -[15] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قضى أَن كل مستحلق استحلق بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ فَقَضَى أَنَّ كُلَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يملكهَا يَوْم أَصَابَهَا فقد لحق بِمن استحلقه وَلَيْسَ لَهُ مِمَّا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ فَإِنْ كَانَ مِنْ أمَةٍ لم يَملِكْها أَو من حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ بِهِ وَلَا يَرِثُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ الَّذِي ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنْيَةٍ مِنْ حُرَّةٍ كَانَ أَوْ أَمَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ ہر ملایا ہوا شخص جو ملایا گیا ہو اس باپ کے بعد جس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس کا دعوی کیا اس کے وارثوں نے ۱؎ پس فیصلہ فرمایا ۲؎ کہ جو اس لونڈی سے ہو جس کا مالک تھا اس دن جب اس سے صحبت کی تو وہ مل گیا اس سے جس سے اسے ملایا ۳؎ اور اسے اس میراث سے کچھ نہ ملے گا جو اس سے پہلے تقسیم کی جاچکی۴؎ اور جو میراث پالی کہ اب تک تقسیم نہ کی گئی تھی تو اس کے لیے اس کا حصہ ہے ۵؎ اور نہ ملایا جاسکے گا جب کہ اس کے اس باپ نے جس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس کا انکار کردیا ہو ۶؎ پھر اگر اس لونڈی سے ہو جس کا وہ مالک نہ تھا یا لونڈی سے ہو جس سے زنا کیا ہو تو وہ اس سے نہ ملے گا اور نہ وارث ہوگا اگرچہ اس کا دعویٰ وہ ہی کرے جس کی طرف منسوب کیا جارہا ہے کیونکہ وہ زنا کا بچہ ہے آزاد سے ہو یا لونڈی سے ۷؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع