30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرات اولیاء اﷲ عالم کی سیر کرسکتے ہیں دور کی جگہ حاضر و ناظر ہوسکتے ہیں ہم نے بھی یہ مسئلہ جاء الحق بحث حاضر و ناضر میں بیان کیا۔
۸؎ یعنی اسلام میں زانی سے نسب ثابت نہیں بلکہ مسلمان محصن زانی سنگسار کیے جانے کے لائق ہے لہذا حدیث پر یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عتبہ ابن ابی وقاص کو یا اس لونڈی کو سنگسار کیوں نہ کیا ؟
۹؎ ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اس فیصلہ کی بنا پر یہ بچہ حضرت سودہ کا علاتی بھائی ہوا اور بھائی سے پردہ نہیں یہ ہے فتویٰ مگر تقویٰ وہ ہے جو اس جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس بچہ کی شکل و شباہت عتبہ سے ملتی جلتی ہے احتمال یہ ہے کہ عتبہ کا بچہ ہو لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ اے سودہ تم اس بچہ سے پردہ کرو کہ شاید یہ تمہارا اجنبی ہو۔ خیال رہے کہ امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک زنا سے نسب ثابت نہیں ہوتا حرامی بچہ زانی باپ کی میراث نہیں پاتا مگر حرمت زنا سے بھی آجاتی ہے کہ زانی پر مزنیہ عورت کی اولاد اس کی ماں نانی وغیرہ حرام ہوجاتی ہے مگر امام شافعی و مالک کے ہاں زنا سے حرمت بھی نہیں آتی زانی شخص مزنیہ عورت کی ماں وغیرہ سے نکاح کرسکتا ہے۔(مرقات)بعض شوافع کے ہاں تو خود زنا کی اس بچی سے بھی نکاح درست ہے جوا س کے نطفہ سے پیدا ہوئی۔(مرقات)
۱۰؎ اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ وہ بچہ پہلے فوت ہوا حضرت سودہ بعد میں اس کا مطلب یہ ہے کہ بچہ کے مرتے دم تک نہ اس نے بی بی سودہ کو دیکھا نہ بی بی سودہ نے اس کو،لہذا حدیث واضح ہے۔
۱۱؎ یہ کلام راوی کا ہے نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا اسی لیے ابیہ غائب کی ضمیر وارد ہوئی ابیک مخاطب کی ضمیر نہ آئی۔خیال رہے کہ لونڈی کا بچہ مولیٰ سے جب مانا جاتا ہے جب کہ مولیٰ اس بچہ کا دعوی کرے صرف وطی کے اقرار سے نسب ثابت نہ ہونا یہ ہی امام اعظم کا مذہب ہے۔حضرت عمر،زید ابن ثابت کا یہ ہی قول ہے مگر امام شافعی کے ہاں صرف اقرار وطی سے نسب ثابت ہوجاتا ہے اگر مولیٰ عزل کا مدعی ہو۔(مرقات)
|
3313 -[10] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَسْرُورٌ فَقَالَ: " أَيْ عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ فَلَمَّا رَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قطيفةٌ قد غطيَّا رؤوسَهُما وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا من بعضٍ " |
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میرے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ایک دن خوش تشریف لائے فرمایا اے عائشہ کیا تمہیں خبر نہیں کہ مجزز مدلجی آیا تھا ۱؎ جب اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا حالانکہ ان دونوں پر کمبل تھا کہ انہوں نے سر ڈھکے ہوئے تھے اور ان کے قدم کھلے ہوئے تھے تو بولا کہ یہ قدم ان کے بعض بعض سے ہیں ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ مدلجی میم کے پیش لام کے کسرہ سے مدلج ایک قبیلہ تھا بنی اسد کا یہ شخص اس قبیلہ سے تھا بڑا قیافہ لگانے والا تھا کہ فلاں کی شکل فلاں سے ملتی جلتی ہے اس لیے اس کا بھائی یا بیٹا ہے کفار عرب اس کے قیافہ پر بڑا اعتقاد رکھتے تھے اس پر احکام نسب صادر کردیا کرتے تھے۔
۲؎ زید ابن اسامہ بہت سیاہ فام تھے اور ان کے والد اسامہ بہت گورے چٹے اس لیے کفار عرب حضرت زید کے نسب پر طعن کرتے تھے کہتے تھے کہ زید اسامہ کے بیٹے نہیں اس قیاف نے باوجود رنگ کے اختلاف کے سب کفار کے روبرو یہ کہہ دیا کہ پاؤں والے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع