30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷؎ چنانچہ خود رب تعالٰی نے اپنی حمد و ثناء کی حضرات انبیاء و اولیاء حمد الٰہی کرتے رہے بلکہ عالم کا ذرہ ذرہ قطرہ قطرہ حمد الہٰی کرتاہے "وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"یہ سب اس پسندیدگی کا نتیجہ ہے حمد الٰہی بہترین عبادت ہے،اس کے نبیوں ولیوں کی تعریفیں بھی بالواسطہ حمد الٰہی ہی ہے کہ جسے جو ملا اس کی عطا سے ملا نعت و مناقب حمد الٰہی کی طرح عبادت الٰہی ہے۔
۸؎ یعنی دنیا میں حمد الٰہی کرنے والوں سے رب تعالٰی نے جنت کا وعدہ فرمالیا ہے خود جنت میں سوائے حمد الٰہی کے اور کوئی عبادت نہ ہوگی،جنتی لوگ جب آپس میں کلام و گفتگو کریں گے تو آخر میں کہا کریں گے واخر دعوا نا ان الحمدﷲ رب العلمین۔
|
3310 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «إِن اللَّهَ تَعَالَى يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ لَا يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ الله» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بے شک اﷲ تعالٰی غیرت فرماتا ہے اور یقینًا مؤمن غیرت کرتا ہے ۱؎ اور اﷲ کی غیرت یہ ہے کہ مومن وہ کام نہ کرے جو اﷲ نے حرام کئے ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ کیونکہ مؤمن اخلاق الٰہی سے موصوف ہوتا ہے معلوم ہوا کہ حیاء و غیرت صفات الہیہ سے ہے،جسے یہ نعمت مل گئی اسے سب کچھ مل گیا اﷲ تعالٰی کی غیرت فرمانے کے کیا معنی ہیں اس کے لیے ہماری تفسیر نعیمی ہیں آیت"اِنَّ اللہَ لَا یَسْتَحۡیٖۤ اَنۡ یَّضْرِبَ"کی تفسیر ملاحظہ فرمایئے۔
۲؎ یعنی بندہ گناہ کرتا ہے رب کو اس سے غیرت آتی ہے جیسے غلام کی بری حرکتوں سے مولیٰ کو غیرت آتی ہے لہذا بندہ ہرگز گناہ پر دلیری نہ کرے۔یہ حدیث باب اللعان میں اس لیے لائے کہ لعان میں زنا کا الزام ہی تو ہوتا ہے اور زنا کرنا بھی غیرت کی چیز ہے اور زنا کی تہمت لگانا بھی شرم کی بات لہذا کوئی خاوند اپنی بیوی کو زنا کی جھوٹی تہمت نہ لگائے۔
|
3311 -[8] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إنَّ امْرَأَتي ولدَتْ غُلَاما أسودَ وَإِنِّي نكرته فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَمَا أَلْوَانُهَا؟» قَالَ: حُمْرٌ قَالَ: «هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟» قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا قَالَ: «فَأَنَّى تُرَى ذَلِكَ جَاءَهَا؟» قَالَ: عِرْقٌ نَزَعَهَا. قَالَ: «فَلَعَلَّ هَذَا عِرْقٌ نَزَعَهُ» وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ |
روایت ہے ان ہی سے کہ ایک بدوی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا میری بیوی نے سیاہ لڑکا جنا اور میں نے اس کا انکار کردیا ۱؎ تو اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیاتیرے پاس اونٹ ہیں بولا ہاں فرمایا ان کے رنگ کیا ہیں بولا سرخ فرمایا کیا ان میں کوئی چتکبرہ بھی ہے بولا اس میں چتکبرہ ہے ۲؎ فرمایاا سے تو کہاں سے دیکھتا ہے کہ یہ آیا۳؎ بولا کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ۴؎ فرمایا تو شاید اسے بھی رگ نے کھینچ لیا ۵؎ اور اس نے اپنے سے انکار کی اجازت نہ دی ۶؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع