30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3309 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ الْمُغِيرَةَ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفِحٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ؟ وَاللَّهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ الْمُنْذِرِينَ وَالْمُبَشِّرِينَ وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ» |
روایت ہے حضرت مغیرہ سے فرماتے ہیں فرمایا سعد ابن عبادہ نے اگر میں کسی مرد کو اپنی عورت کے ساتھ دیکھوں تو اسے مار دوں تلوار سے چوڑائی سے نہیں ۱؎ یہ خبر رسول اﷲ کو پہنچی تو فرمایا کیا تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو ۲؎ اﷲ کی قسم میں ان سے بڑھ کر غیرت مند ہوں ۳؎ اور اﷲ مجھ سے زیادہ غیور ہے اﷲ کی غیرت کی وجہ سے کہ اﷲ نے ظاہر باطن فحش چیزیں حرام فرمادیں ۴؎ اور اﷲ سے زیادہ کسی کو معذرت پسند نہیں ۵؎ اسی لیے اﷲ نے ڈرانے والے اور بشارت دینے والے بھیجے ۶؎ اور ایسا کوئی نہیں ہے جسے اﷲ سے زیادہ تعریف پسند ہو ۷؎ اسی وجہ سے اﷲ نے جنت کا وعدہ فرمایا ۸؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی میں اسے چو ڑی تلوار نہ ماروں جس سے صرف چوٹ لگے بلکہ دھار کی طرف سے ماروں جس سے وہ قتل ہی ہو جائے بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ غیر مصفح لضربتہ کے فاعل کا حال ہے یعنی میں اس زانی سے در گزر نہ کروں بلکہ مار ہی دوں مگر پہلے معنے نہایت ہی موزوں ہیں۔
۲؎ سارے صحابہ کرام ہی غیرت مند تھے مؤمن بے غیرت نہیں ہوتا چہ جائیکہ حضرت صحابہ مگر حضرت سعد بے حد غیور و غیرت مند تھے اس لیے یہ فرمایا گیا لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۳؎ معلوم ہوا کہ حضور تمام صفات کمالیہ میں تمام خلق سے افضل ہیں غیور بادشاہ اپنے نوکروں سے بھیک نہیں منگاتے بڑھاپے میں ان کی پنشن کردیتے ہیں حضور ایسے غیور ہیں کہ اپنے نام لیواؤں دین کے خدمتگاروں اپنے نوکروں چاکروں کو ذلیل نہیں ہونے دیتے ناکاروں کو ایسا نبھاتے ہیں کہ سبحان اﷲ دیکھو ہم جیسے ناکارہ جنہیں کوئی کوئی ہنر نہ آئے ان کے نام پر کیسے مزے سے پل رہے ہیں۔صلی اللہ علیہ وسلم۔
تیری غیرت کےنثاراےمرےغیرت والے آہ صد آہ کہ یوں خوار ہو بردہ تیرا
۴؎ رب تعالٰی کی غیرت کے یہ ہی معنی ہیں ورنہ اﷲ تعالٰی شرم غیرت کے ظاہری معنے سے پاک ہے ایسے الفاظ میں رب تعالٰی کے لیے ان کے نتائج مراد ہوتے ہیں۔
۵؎ یعنی رب تعالٰی کو بندے کی توبہ بہت ہی پسند ہے،اسی لیے بذریعہ انبیائے کرام پیغام بھیجا کہ ففروا الی اﷲ گنہگاروں اﷲ کی طرف بھاگ آؤ پناہ پالو گے۔اسی صفت کے مظہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،اسی کا نتیجہ تھا کہ حضور نے حضرت وحشی ہندہ،ابو سفیان وغیرہ ہم کو معافی دے دی ان حضرات کو معاف کردینا طاقت انسان سے باہر ہے ان کے دروازے پر آنے والا محروم نہیں جاتا۔شعر
لج پال پریت کو توڑت ناہیں
جو بانھ پکڑیں پھر چھوڑت ناہیں
گھر آئے کو خالی موڑت نائیں
۶؎ معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کرام کی بعثت کا اصل منشا بھاگے ہوؤں کو بلانا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع