دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۴؎ یہاں دنیا کی سزا سے مراد حد قذف تہمت کی سزا ہے یعنی اسی کوڑے یعنی اگر تو جھوٹ کہہ رہا ہے تو اقرار کرلے اسی۸۰ کوڑے کھا کر تیری رہائی ہو جائے گی،آخرت کا عذاب رسوائی و دوزخ کی آگ بہت سخت ہے۔

۵؎ یہاں عذاب سے مراد رجم یعنی سنگسار کرنا اور دنیاکی بدنامی ہے کہ اگر عورت زنا کا اقرار کرلے تو رجم کی جائے گی دنیا اسے برا کہے گی مگر یہ تکلیف چند منٹ کی ہے آخرت میں رسوائی اور دوزخ کا عذاب بہت سخت ہے عقلمند وہ ہے جو دشوار سزاکے مقابل آسان کو اختیار کرے۔

3306 -[3]

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: «حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ: «لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ وَأبْعد لَك مِنْهَا»

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے لعان والے زوجین سے فرمایا کہ تم دونوں کا حساب اﷲکے ہاں ہے ۱؎ تم میں سے ایک جھوٹا ہے اب تم کو اس عورت پر کوئی حق نہیں آیا ۲؎  عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میرا مال ۳؎ تو فرمایا مال تجھے نہ ملے اگر تو نے اس پر سچ بولا ہے تو مال اس عوض میں رہا کہ تو نے اس کی شرمگاہ میں تصرف کرلیا ۴؎ اور اگر تم نے اس پر جھوٹ باندھا ہے تو یہ تجھ سے بہت بہت دور ہے ۵؎(مسلم، بخاری)

۱؎ کہ وہ ہی تم میں سے جھوٹے کو سزا دے گا ہم صرف ظاہر پر عمل کرتے ہیں اگر تم میں سے کسی کا جھوٹ ظاہر نہ ہو تو کسی کو سزا نہیں دیتے۔

۲؎ اس جملہ کی وجہ سے امام شافعی فرماتے ہیں کہ خود لعان ہی فسخ نکاح ہے حاکم کے فیصلہ پر موقوف نہیں مگر امام اعظم کے ہاں اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ہماری تفریق کے بعد لاعن کا ملا عنہ پر کوئی حق نکاح باقی نہیں رہتا،تاکہ یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہ ہو۔

۳؎ مالی پوشیدہ فعل کا فاعل ہے یعنی میرا مال کہا گیا مال سے مراد دیا ہوا مال ہے یعنی مہر وہ چاہتے تھے کہ مہر واپس دلایا جائے۔

۴؎ یعنی تیرا مہر صحبت سے گیا اس سے معلوم ہوا کہ صحبت سے یا خلوت سے مہر مؤکد ہوتا ہے اگر بغیر خلوت طلاق دے دی گئی تو نصف مہر واجب ہوگا اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔

۵؎ یعنی جب تجھے سچا ہونے پر مال واپس نہ ملا تو جھوٹا ہونے پر تو مل سکتا ہی نہیں۔خیال رہے کہ دوسرا بعد تاکید کے لیے زائد فرمایا گیا یعنی بہت بہت دور ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ملاعنہ عورت کو مہر پورا پورا ملے گا،لعان سے مہر پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

3307 -[4]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدًّا فِي ظَهْرِكَ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلًا يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ؟ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ» فَقَالَ هِلَالٌ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ فَلْيُنْزِلَنَّ اللَّهُ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ وَأنزل عَلَيْهِ: (وَالَّذين يرْمونَ أَزوَاجهم)فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ (إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ)فَجَاءَ هِلَالٌ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟» ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَتْ عِنْدَ الْخَامِسَةِ وَقَفُوهَا وَقَالُوا: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا تَرْجِعُ ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ فَمَضَتْ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقِينَ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ» فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْن» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ہلال ابن امیہ نے ۱؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے نزدیک اپنی بیوی کو شریک ابن سحماء سے تہمت لگائی ۲؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا گواہ لاؤ یا تمہاری پیٹھ میں سزا ہے ۳؎ وہ بولے یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب ہم میں سے کوئی اپنی بیوی پر کسی مرد کو دیکھے تو گواہ ڈھونڈتا پھرے ۴؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرمانے لگے گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ میں سزا ہوگی ۵؎ ہلال بولے اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں سچا ہوں تو اﷲ تعالٰی ضرور وہ آیات اتارے گا جو میری پیٹھ کو سزا سے بچالیں گی ۶؎ اتنے میں جبرئیل اترے اور آپ پر یہ آیت اتاری ۷؎ اور وہ لوگ جو الزام لگائیں اپنی بیویوں کو،پھر پڑھی حتی کہ ان کان من الصادقین تک پہنچ گئے پھر ہلال آئے گواہی دی۸؎ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ یقینًا اﷲ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرلے گا۹؎ پھر عورت کھڑی ہوئی پس گواہی دی جب پانچویں پر پہنچی ۱۰؎ تو لوگوں نے اسے ٹھہرالیا اور بولے کہ یہ واجب کرنے والی ہے ۱۱؎ ابن عباس فرماتے ہیں کہ وہ کچھ ٹھہری اور لوٹی حتی کہ ہم نے گمان کر لیا کہ یہ رجوع کرلے گی ۱۲ ؎  پھر بولی میں اپنی قوم کو کبھی رسوا نہ کروں گی پھر گزر گئی ۱۳؎ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے دیکھنا اگر یہ سرمگیں آنکھوں والا بھرے چوتڑوں والا پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ شریک ابن سحماء کا ہے ۱۴؎ پھر وہ ایسا بچہ لائی فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اگر قرآن کا وہ حکم جو گزر گیا نہ ہوتا ۱۵؎ تو میرا اور اس عورت کا کچھ حال ہوتا ۱۶؎(بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن