دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۲؎ یعنی لونڈی بھی میری تھی بکریاں بھی میری ہی چراتی تھیں کسی اور کی مزدوری نہ کرتی تھی لونڈی پر پردہ لازم نہیں کیونکہ وہ پردے میں رہ کر مولے کی خدمت نہیں کرسکتی۔

۳؎ یعنی اس نے بڑا قصور یہ کیا مجھے اس واقعہ کی خبر نہ دی بکری بھیڑیا لے گیا میرے پوچھنے پر بتایا ورنہ مجھے اتنا غصہ نہ آتا۔

۴؎ اس مارنے کی وجہ سے نہیں کسی اور وجہ سے کفارہ واجب ہوچکا ہے جس میں غلام آزاد کرنا مجھ پر لازم ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو کوئی اپنے غلام کو مار دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ا سے آزاد کردے یہ حکم صرف استحبابی ہے یہاں یہ کفارہ مراد نہیں جیسا کہ علیّ سے معلوم ہورہا ہے۔ احادیث میں ہے کہ یہ لونڈی گونگی تھی یہ تمام گفتگو اس نے اشارہ سے کی۔ اس روایت کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ کفارہ میں گونگے غلام کا آزاد کرنا جائز ہے،خیال رہے کہ عربی میں اشارۃً کلام کرنے کو بھی کہنا کہہ دیتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَقُوۡلِیۡۤ اِنِّیۡ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنۡسِیًّا"یعنی اے مریم اشارہ سے کہہ دینا کہ میرا چپ کا روزہ ہے میں کسی سے کلام نہ کروں گی۔

۵؎ یہ سوال و جواب اﷲ تعالٰی کی جگہ کے متعلق نہیں وہ تو جگہ میں رہنے سے پاک ہے بلکہ سرکار نے اس چیز کی تحقیق فرمائی کہ یہ لونڈی مشرکہ نہیں بتوں کو خدا نہیں کہتی،اگر مشرکہ ہوتی تو ان ہی بتوں کو الہ کہہ دیتی۔

۶؎  کیونکہ یہ مؤمنہ ہے جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے۔اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ کفارات وغیرہ میں صرف مؤمنہ غلام لونڈی آزاد ہوسکتی ہے،امام اعظم کے ہاں ہر غلام آزاد کیا جاسکتا ہے خواہ مؤمن ہو یا کافر،سرکار عالی کا یہ امتحان لے کر فرمانا کہ اسے آزاد کردو بیان استحباب کے لیے ہے یعنی مؤمن غلام کا آزاد کرنا کافر غلام آزاد کرنے سے افضل ہے۔امام اعظم کے بقیہ دلائل پہلے عرض کیے جاچکے ہیں کہ قرآن کریم نے کفارہ قتل کے سواء کسی کفارہ میں مؤمن غلام کی قید نہ لگائی اور قرآن شریف کے مطلق احکام کو ان کے اطلاق پر رکھنا ضروری ہے۔

۷؎  احد مدینہ منورہ کا مشہور پہاڑ ہے جو مدینہ پاک سے تین میل فاصلہ پر ہے اور جوانیہ احد کے قریب جنگل کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے جانب شمال ہے احد سے متصل۔

۸؎ میرے سامنے نہ لے گیا بلکہ بکریاں شمار کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک بکری کم ہے،لونڈی سے پوچھنے پر پتہ لگا کہ بھیڑیا لے گیا لہذا یہ روایت گزشتہ روایت کے خلاف نہیں۔

۹؎ لکن سے پہلے ایک مختصر سی عبارت پوشیدہ ہے یعنی دل تو چاہا کہ لونڈی کو سخت سزا دوں کیونکہ میرا بہت نقصان ہوگیا تھا مگر میں نے ایک تھپڑ مارنے پر ہی کفایت کی۔

۱۰؎ یعنی آپ نے فرمایا کہ تم نے بڑا گناہ کیا کیونکہ بے قصور لونڈی کو تھپڑ مار دیا یہ حق العبد ہے جو توبہ سے بھی معاف نہیں ہو سکتا،مگر قصاص دینے کا حکم نہ فرمایا کیونکہ مولے سے لونڈی کا قصاص نہیں لیا جاتا۔اس سے معلوم ہوا کہ بے قصور کو سزا دینا گناہ ہے اگرچہ استاذ یا پیر یا مولے یا آقا ہی کیوں نہ دے اس سے موجودہ زمانہ کے حکام آقاؤں کو عبرت پکڑنی چاہیے۔

۱۱؎  تاکہ یہ آزاد کرنا میرے اس گناہ کا کفارہ بھی ہوجائے اور میرے ذمہ ایک دوسرا کفارہ ہے جس میں غلام آزاد کرنا مجھ پر واجب ہے وہ بھی ادا ہوجائے لہذا یہ روایت گزشتہ روایت کے خلاف نہیں یہ مطلق گزشتہ مقید پر محمول کیا جائے گا۔(مرقات)خیال رہے کہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن