30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ پہلے کہا جاچکا ہے کہ یہ عکرمہ ابن ابوجہل نہیں ہیں بلکہ حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں تابعین میں سے ہیں۔
۲؎ یعنی ظہار کرنے والا اپنی مظاہرہ بی بی سے کفارہ سے پہلے صحبت نہیں کرسکتا مگر اس نے کرلی اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا،پتہ نہ چلا کہ یہ صحابہ کون تھے۔
۳؎ یہ سوال یا تو محض تحقیق واقعہ کے لیے ہے یا مسلمانوں کو یہ بتانے کے لیے کہ مظاہر ظہار کے بعد کفارہ سے پہلے اسباب جماع سے بھی احتیاط رکھے۔
۴؎ بعض روایات میں ہے کہ اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی تو میں شہوت سے بے قابو ہوگیا مگر ان دونوں روایتوں میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ پنڈلی کی سفیدی اور جھانجن کی چمک بیک وقت دیکھی جاسکتی ہے۔حجل ح کے فتحہ اور پیش سے بمعنی جھانجن عورتوں کے پاؤں کا مشہور زیور جسے خلخال بھی کہتے ہیں۔اس جواب میں اس طرف اشارہ ہے کہ میں نے اسباب جماع خود نہ جمع کیے تھے بوس و کنار نہ کیا تھا اتفاقًا ایسا ہوگیا۔اس سے معلوم ہوا کہ بیمار طبیب سے مرض نہ چھپائے۔
۵؎ اس پر ملامت نہ فرمائی جس سے معلوم ہوا کہ اس کا یہ عذر قبول فرما لیا۔
۶؎ اس سے فقہاء کا یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ اگر مظاہر کفارہ ادا کرنے سے پہلے صحبت کر بیٹھے تو اس پر ایک ہی کفارہ ظہار کا واجب ہوگا دو یا تین کفارے واجب نہ ہوں گے،یہ بھی معلوم ہوا کہ اس جماع کے بعد بھی اس پر آئندہ صحبت کرنا ممنوع ہوگا جب تک کہ کفارہ نہ دے لے۔
۷؎ یعنی یہ حدیث چند اسنادوں سے مروی ہے بعض اسنادوں میں حسن ہے بعض میں صحیح بعض میں غریب۔
۸؎ یہاں اسناد و ارسال سے مراد یا تو حضرت عکرمہ کا ارسال و اسناد ہے کہ کبھی انہوں نے حضرت ابن عباس کا ذکر کیا کبھی نہ کیا یا حضرت ابن عباس کا ارسال و اسناد مراد ہے کہ بعض روایات میں حضرت ابن عباس نے یہ واقعہ اور صحابی سے نقل فرمایا وہاں اسناد ہوگئی،بعض میں ان صحابی کا ذکر نہ فرمایا یہ ارسال ہوا۔ارسال صحابی کا بھی ہوتا ہے اور تابعی کا بھی۔(مرقات)خیال رہے کہ اسلام میں سب سے پہلے ظہار اوس ابن حاجب نے اپنی بیوی خولہ بنت خویلہ ابن مالک سے کیا اور خولہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئیں ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی"قَدْ سَمِعَ اللہُ قَوْلَ الَّتِیۡ تُجٰدِلُکَ فِیۡ زَوْجِہَا"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع