30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دو شرطیں ہیں: ایک عورت کا اپنی بیوی ہونا لہذا لونڈی سے ظہار نہیں،دوسرے خاوند کا اہل کفارہ ہونا لہذا بچہ دیوانہ کا ظہار درست نہیں، ظہار کا حکم یہ ہے کہ ادائے کفارہ تک عورت حرام رہتی ہے۔
۳؎ یعنی قسم توڑ دی اگر یہ حضرت ماہ رمضان گزر جانے دیتے تو کفارہ واجب نہ ہوتا کہ وقتی ظہار کا یہ ہی حکم ہے دائمی ظہار میں جب بھی صحبت کرے کفارہ واجب ہے۔
۴؎ معلوم ہوا کہ کفارہ ظہار میں ترتیب یہ ہے کہ مظاہر غلام آزاد کرے اگر اس پر قادر نہ ہو تو روزے رکھے اگر اس پر بھی قدرت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے۔رقبہ مطلق فرمانے سے معلوم ہوا کہ کفارہ ظہار میں ہر قسم کا غلام آزاد کیاجاسکتا ہے،مومن ہو یا کافر۔
۵؎ یعنی میرے پاس نہ غلام ہے نہ اس کی قیمت کہ خرید کر آزاد کروں۔
۶؎ اس طرح کہ لگاتار ساٹھ روزے رکھے جاؤ اور دوران روزے میں اس بیوی سے صحبت ہرگز نہ کرو رب تعالٰی فرماتاہے:"مِنۡ قَبْلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا"۔
۷؎ ضعف بدن کی وجہ سے اتنے روزے لگاتار نہیں رکھ سکتا یا ان دو ماہ میں عورت سے علیحدہ نہیں رہ سکتا جیسا کہ بعض قوی جوانوں کا حال ہوتا ہے۔(مرقات)
۸؎ روزانہ ایک مسکین کو تاکہ کھانا دینا دو ماہ میں پورا ہو۔
۹؎ بعض نسخوں میں عروہ ابن عمر ہے یہ کاتب کی غلطی ہے فروہ ابن عمرو بیاضی انصاری ہیں بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔
۱۰؎ خیال رہے کہ کفارہ ظہار میں یا تیس صاع گندم ساٹھ مسکینوں کو دیا جائے فی مسکین آدھا صاع قریبًا سوا دو سیر یا ساٹھ صاع جو کھجوریں وغیرہ فی مسکین ایک صاع قریبًا ساڑھے چار سیر یہاں پندرہ سولہ صاع کھجوریں دے دینے کا حکم دیا،یہ حضرت سلیمان کی خصوصیات سے ہے جیسے ابو بردہ رضی اللہ عنہ کو چھ ماہ کی بکری کی قربانی کی اجازت دے دی گئی تھی حالانکہ ایک سالہ بکری کی قربانی ہوسکتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث اس پابندی سے پہلے کی ہو۔(اشعہ)یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بطور امداد ان کو یہ مقدار عطا ہوئی باقی ان کے اپنے ذمہ رہی۔(مرقات)مگر پہلی توجیہ نہایت قوی ہے
|
3300 -[6] وروى أَبُو دَاوُد وابنُ مَاجَه والدارمي عَن سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ نحوَه قَالَ: كنتُ امْرأ أُصِيبُ مِنَ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي وَفِي روايتهِما أَعنِي أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيَّ: «فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتِّينَ مِسْكينا» |
بروایت سلیمان ابن یسار عن سلمہ ابن صخر ۱؎ اس کی مثال روایت فرماتے ہیں کہ میں ایسا شخص تھا کہ عورتوں سے اس قدر صحبت کرتا تھا کہ میرے سوا کوئی نہ کرتا ۲؎ اور ان دونوں یعنی ابوداؤد اور دارمی کی روایت میں ہے کہ ایک و سق چھوارے ساٹھ مسکینوں کو دو ۳؎ |
۱؎ مگر سلیمان ابن یسار نے سلمہ ابن صخربیاضی سے ملاقات نہیں کی ہے لہذا اس اسناد میں یہ حدیث مرسل کی طرح ہوگی کوئی راوی درمیان میں رہ گیا ہے۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع