30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3298 -[4] وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: أَدْرَكْتُ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَقُولُ: يُوقَفُ الْمُؤْلِي. رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے چند اور دس صحابہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو پایا وہ تمام فرماتے تھے کہ ٹھہرایا جائے ایلاء کرنے والا۲؎(شرح سنہ) |
۱؎ آپ کی کنیت ابو ایوب ہے،عطاء ابن یسار کے بھائی ہیں،ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام،تابعی ہیں،بڑے فقیہ محدث زاہد متقی ہیں،اہل مدینہ کے ساتھ فقہاء میں سے ہیں،۷۳ سال عمر ہوئی، ۱۰۷ھ میں وفات پائی رضی اللہ عنہ۔(اکمال)
۲؎ خاوند کا قسم کھالینا کہ میں اپنی بیوی سے چار ماہ تک صحبت نہ کروں گا ایلاء ہے اور قسم کھانے والا خاوند مولی ہے، ایلاء کا حکم ہمارے ہاں یہ ہے کہ اگر خاوند اس مدت میں قسم توڑ دے اور رجوع کرے تو اس پر قسم کا کفارہ واجب ہے ورنہ چار ماہ گزرنے پر ایک طلاق بائنہ واقع ہوجائے گی۔حدیث کے معنی ہمارے نزدیک یہ ہیں۔ایلاءکرنے والے کا معاملہ موقوف رکھا جائے چار ماہ تک طلاق کا حکم نہ دیا جائے،اگر اس مدت میں رجوع کرلیا تو خیر ورنہ یہ مدت گزرنے پر طلاق واقع ہوجائے گی۔یہ ہی قول ہے حضرت عثمان،علی،عبداﷲ ابن مسعود، عبداﷲ ابن عباس،عبداﷲ زبیر و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا، بعض علماء فرماتے ہیں کہ چار ماہ گزر جانے پر طلاق واقع نہ ہوگی بلکہ اب اسے حاکم رجوع کرنے پر مجبور کرے گا اگر رجوع نہ کرے تو فسخ نکاح کا حکم دے گا۔ان کے ہاں حدیث کے معنے یہ ہیں کہ عدت گزرنے پر حاکم مولی کا معاملہ موقوف رکھے مگر امام اعظم کا قول بہت قوی ہے۔آیت قرآنیہ سے اس کی تائید ہوتی ہے اس کی نفیس تحقیق یہاں مرقات میں ملاحظہ فرمایئے۔
|
3299 -[5] وَعَن أبي سلمةَ: أَنَّ سَلْمَانَ بْنَ صَخْرٍ وَيُقَالُ لَهُ: سَلَمَةُ بْنُ صَخْرٍ الْبَيَاضِيُّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ فَلَمَّا مَضَى نِصْفٌ مِنْ رَمَضَانَ وَقَعَ عَلَيْهَا لَيْلًا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقْ رَقَبَةً» قَالَ: لَا أَجِدُهَا قَالَ: «فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ: «أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا» قَالَ: لَا أَجِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَرْوَةَ بْنِ عَمْرٍو: «أَعْطِهِ ذَلِكَ الْعَرَقَ» وَهُوَ مِكْتَلٌ يَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعا «ليُطعِمَ سِتِّينَ مِسْكينا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے ابو سلمہ سے کہ حضرت سلمان ابن صخر جنہیں سلمہ ابن صخر بیاضی کہا جاتا ہے ۱؎ انہوں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر اپنی ماں کی پشت کی طرح کرلیا ۲؎ یہاں تک کہ رمضان گزرگیا پھر جب آدھا رمضان گزر ا تو ایک رات ان سے صحبت کرلی۳؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس کا ذکر حضور سے کیا ان سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا غلام آزاد کرو ۴؎ عرض کیا میں غلام پاتا نہیں ۵؎ فرمایا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو ۶؎ عرض کیا مجھ میں طاقت نہیں فرمایا ۷؎ ساٹھ مسکینوں کو کھانا دو ۸؎ عرض کیا ہے نہیں تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فروہ ابن عمروسے فرمایا ۹؎ کہ انہیں یہ ٹوکری دے دو وہ بڑی زنبیل ہے جس میں پندرہ یا سولہ صاع سماتے ہیں تاکہ وہ ساٹھ مسکینوں کوکھلا دیں ۱۰؎(ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ، دارمی) |
۱؎ ابو سلمہ تابعین میں سے ہیں ۷۲ سال عمر پائی، ۹۷ھ میں وفات ہوئی،حضرت عبداﷲ ابن عباس و ابوہریرہ و ابن عمر وغیرہم سے ملاقات ہے،ابواسخہ کا نام سلیمان بیاضہ ابن عامر کی اولاد سے ہیں،صحابی ہیں،خوفِ خدا میں بہت گریہ و زاری کرتے تھے۔
۲؎ یعنی انہوں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا یعنی یہ کہا کہ تو مجھ پر رمضان گزرنے پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے یعنی حرام ہے، ظہار کے معنے ہیں اپنی بیوی کو اپنی ماں بہن وغیرہ دائمی محرمات کے کسی عضو،شانے سے تشبیہ دینا۔ظہر سے بنا بمعنی پشت،اس میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع