30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے خلاف متعدد جوابات دیئے،نیز ہم نے اپنی کتاب طلاق الادلۃ فی احکام الطلاق الثلثۃ میں اس کی بہت تحقیق کی ہے وہاں ملاحظہ فرمایئے غرض یہ ہی حق ہے کہ تین طلاقیں تین ہی ہوں گی۔
|
3294 -[21] وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مُعَاذُ مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَتَاقِ وَلَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلاقِ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ اﷲ تعالٰی نے روئے زمین پر کوئی چیز آزاد کرنے سے زیادہ پیاری و محبوب نہ فرمائی ۱؎ اور اﷲ تعالٰی نے روئے زمین میں کوئی چیز طلاق سے زیادہ ناپسند پیدا نہ فرمائی ۲؎(دارقطنی) |
۱؎ یعنی غلام کو آزاد کرنا مستحب ہے مگر دیگر مستحبات سے افضل و اعلیٰ ہے کیونکہ اس سے ایک جان کو غلامی سے نجات دینا ہے اسے جانوروں کی حد سے نکال کر انسانی حدود میں داخل کرنا ہے۔
۲؎ یعنی بلا ضرورت طلاق دینا اگرچہ جائز ہے مگر رب تعالٰی کو ناپسند ہے ورنہ کبھی طلاق دینا مستحب یا واجب بھی ہوتی ہے،چنانچہ فاسِقہ فاجرہ رب کی ناشکری بیوی کو طلاق دے دینا بہتر ہے،حضرت ابوحفص بخاری فرماتے ہیں کہ کل قیامت میں اگر میں رب تعالٰی سے اس حال میں ملوں کہ میری مطلقہ بیوی کا مہر میرے گلے میں لٹکا ہو اس سے بہتر ہے کہ بے نمازی بیوی میرے نکاح میں رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح کرنا دوسرے دنیاوی کاروبار بلکہ نوافل عبادت سے افضل ہے یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔ (مرقات)لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اگر طلاق رب تعالٰی کو بہت ہی ناپسند ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی بیوی کو طلاق کیوں دلوائی تھی ؟ یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی سودہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیوں فرمایا،یا امام حسن رضی اللہ عنہ نے بہت نکاح کیوں کیے اور بہت طلاقیں کیوں دیں کیونکہ طلاق رب تعالٰی کو ناپسند بھی ہے اور پسند بھی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع