دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

ایک طلاق ہوتی ہے،جمہور علماء کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے "وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ لَا تَدْرِیۡ لَعَلَّ اللہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا"دیکھو قرآن کریم نے طلاقیں جمع کرنے کو ظلم قرار دیا اور باعث ندامت مگر طلاقیں واقع مان لیں نیز بہت سی احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے یک دم تین طلاقوں سے تین ہی واقع ہوتی ہیں ابھی گزر چکا کہ ابو رکانہ سے حضور نے قسم لی کہ کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی ؟ اس کی پوری اور نفیس تحقیق ہماری کتاب طلاق الادلۃ میں دیکھئے۔

۵؎ شاید یہ صاحب اجازت قتل مانگنے والے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے آپ کا خیال یہ ہوا ہوگا کہ کتاب اﷲ سے کھیلنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ پہنچانا کفر ہے اور مسلمان کا کفر ارتداد ہوتا ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے مگر ان کے قتل کی اجازت نہ دی گئی کیونکہ حضور کو دکھ پہنچنا اور آپ کو رنجیدہ کرنے کی غرض سے کوئی کام کرنا تو کفر ہے مگر کسی کے کسی کام سے حضور کو دکھ پہنچانا جانا کفر نہیں دکھ پہنچا نے اور پہنچ  جانے میں بڑا فرق ہے،مسلمان کے گناہ سے حضور کو صدمہ ہوتا ہے"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"مگر گناہ کفر نہیں ہوتا اس شخص نے یہ کام نادانی سے کیا تھا نہ کہ حضور کو صدمہ پہنچانے کے لیے ۔اس سے معلوم ہواکہ تین طلاقیں ایک دم دے دینا برا ہے لیکن اس سے تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی جیسے بحالت حیض طلاق دینا حرام ہے مگر اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ایک دم تین طلاقیں دینا اس لیے بھی برا ہے کہ اس میں پھر دوبارہ رجوع کا موقع نہیں ملتا پھر خاوند پچھتاتا ہے۔

3293 -[20]

وَعَن مَالك بلغه رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ فَمَاذَا تَرَى عَلَيَّ؟ فَقَالَ ابْن عَبَّاس: طلقت مِنْك ثَلَاث وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبر پہنچی ہے کہ کسی شخص نے حضرت عبداﷲ ابن عباس سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں آپ مجھ پر کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ وہ تین طلاقوں سے تجھ سے مطلقہ ہوچکی اور ستانویں طلاقوں کے ذریعہ تو نے اﷲ کی آیتوں کا مذاق اڑا لیا ۱؎ (مؤطا)

۱؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک دم تین طلاقیں تین ہی واقع ہوں گی اور اگر کوئی شخص ہزار یا لاکھ طلاقیں دے دیں تو تین تو واقع ہو جائیں گی باقی لغو جائیں گی یہ ہی علماء امت کا قول ہے اس پر تمام آئمہ متفق ہیں وہ جو مسلم شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نیز صدیق اکبر کے زمانہ اور شروع خلافت فاروقی میں ایک دم تین طلاقیں ایک مانی جاتی تھیں پھر فاروق اعظم نے انہیں تین طلاق قرار دیا وہاں تو یہ مراد ہے کہ کوئی شخص تین طلاق اس طرح دیتا کہ تجھے طلاق ہے،طلاق،طلاق، دوسری دو طلاقوں سے پہلی طلاق کی تاکیدیں کرتا تھا اور کوئی شخص اپنی غیر مدخولہ بیوی جس سے صرف نکاح ہوا ہو رخصت نہ ہوئی ہو اس سے کہے تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہے تجھے طلاق تو اس سے صرف ایک طلاق پہلی ہی واقع ہوگی دوسری دو طلاقیں واقع نہ ہوں گی کیونکہ غیر مدخولہ عورت پر عدت نہیں ہوگی وہ پہلی طلاق سے ہی نکاح سے بالکل ہی خارج ہوگئی،عہد فاروقی میں حالات بدل چکے تھے لوگ اپنی مدخولہ بی بی کو تین طلاقیں ہی دیا کرتے تھے لہذا حضرت فاروق اعظم کا فرمان عالی نہایت ہی درست وصحیح تھا ورنہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت فاروق اعظم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قانون جاری فرماتے اور تمام صحابہ کرام خاموش رہتے لہذا حکم یہ ہی ہے کہ جو شخص اپنی مدخولہ بیوی کو جس سے خلوت کرچکا ہو تین طلاقیں ایک دم دے تو تین ہی واقع ہوں گی۔ اس جگہ مرقات نے اس کے متعلق قریبًا پندرہ بیس حدیثیں نقل فرمائیں کہ تین طلاقیں تین ہی واقع ہوں گی اور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن