30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتے ہیں کہ ناحق جبر کی صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر ضرورۃً مجبور کرکے طلاق لے لی جائے تو واقع ہوجائے گی جیسے ظالم خاوند جو عورت کو نہ درست طریقہ سے بسائے نہ طلاق دے،یہ ہی قول ہے حضرت علی،عبداﷲ ابن عمر،شریح،عمر بن عبد العزیز کا۔(مرقات)ہمارے ہاں بھی مجبور کی زبانی طلاق ہوگی اگر مجبور نے صرف تحریری طلاق دی تو واقع نہ ہوگی۔(عالمگیری)خیال رہے کہ دس چیزیں مجبوری میں جائز ہوتی ہیں نکاح،طلاق،رجوع،ایلاء فی،ظہار،عتاق،یعنی غلام آزاد کرنا،قصاص سے معافی،قسم، نذر۔شعر
یصح مع الاکراہ عتق و رجعۃ نکاح و ایلاء طلاق مفارق
و فی ظہار و الیمین و نذرہ وعفو لقتل شاب عنہ مفارق
گیارہواں اسلام یعنی مجبور کا اسلام درست ہے۔(مرقات و کتب فقہ)
|
3286 -[13] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ طَلَاقٍ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ وَالْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعَطَاءُ بْنُ عجلانَ الرَّاوي ضعيفٌ ذاهبُ الحَدِيث |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر طلاق جائز ہے سوائے دیوانہ اور مغلوب العقل کی طلاق کے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور عطاء ابن عجلان راوی ضعیف حدیث بھول جانے والے ہیں ۲؎ |
۱؎ غالبًا مغلوب العقل معتوہ کی تفسیر ہے اور یہ عطف تفسیری ہے ہوسکتا ہے کہ معتوہ وہ جس کی عقل میں فتور ہو اور مغلوب العقل بالکل دیوانہ حضرت علی امام مالک،امام شافعی،امام اوزاعی،سفیان ثوری امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ نشہ والے کی طلاق واقعی ہوجاوے گی اگرچہ وہ بے عقل ہوچکا ہو جب کہ اس نے گناہ کے طور پر نشہ کیا اسی لیے اسپر نمازیں معاف نہیں ہوتیں۔بچے،دیوانہ،سوتے ہوئے بے ہوش کی طلاق نہیں ہوتی۔
۲؎ اس حدیث کی تائید میں بہت زیادہ احادیث بخاری ابن ابی شیبہ وغیرہ میں آئی ہیں اگر تفصیل دیکھنا ہو تو یہاں مرقات کا مطالعہ کیجئے،لہذا اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہو مگر دوسری احادیث کی تائید سے قوی ہے۔
|
3287 -[14] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَبْلُغَ وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يعقل ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد 3288 -[15] وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْهُمَا |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قلم اٹھالیا گیا ہے تین شخصوں سے ۱؎ سوتا ہوا حتی کہ جاگ جائے اور بچے سے حتی کہ بالغ ہوجائے اور دیوانہ سے یہاں تک کہ عقل والا ہوجائے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)
دارمی،حضرت عائشہ سے اور ابن ماجہ ان دونوں سے۔ |
۱؎ یعنی ان پر سزا و جزا نہیں ہوتی۔
۲؎ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ نابالغ بچہ سوتا ہوا آدمی اور دیوانہ مرفوع القلم ہیں ان پر شرعی احکام جاری نہیں لہذا اگر یہ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں تو واقع نہ ہوگی۔ اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ بچہ کی طلاق واقع نہیں ہوتی یوں ہی سوتے میں اگر کوئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع