30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ ان تین چیزوں کا ذکر صرف اہتمام کے لیے ہے ورنہ تمام تصرفات شرعیہ جن میں دوسرے کا حق ہوجاتا ہو سب کا یہ ہی حکم ہے لہذا بیع،ہبہ،کرایہ،طلاق،نکاح، طلاق سے رجوع، دانستہ طور پر کرے یا اس کے منہ سے نادانی کی حالت میں نکل جائیں یعنی یہ عقد منعقد ہوجائیں گے۔ مزاق میں مرد نے عورت سے کہا کہ میں نے تجھے طلاق دے دی ، یا تجھ سے نکاح کیا اور عورت نے بھی مزاق دل لگی میں قبول کےالفاظ کہہ دیئے یا طلاق والی عورت سے دل لگی میں کہا کہ میں نے رجوع کرلیا یا ہنسی مذاق میں کہا میں نے یہ گھر تیرے ہاتھ فروخت یا ہبہ کردیا پس درست ہوگیا اگر یہ حکم نہ ہو تو شریعت کے احکام بے کار ہو کر رہ جائیں ہر شخص بیع یا ہبہ یا طلاق یا نکاح کرکے کہہ دیا کرے کہ میں تو دل لگی میں کہہ رہا تھا۔یہ حدیث معاملات کی اصل اصول ہے جس پر صدہا احکام مرتب ہیں۔(لمعات و مرقات)
۳؎ یعنی یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے بعض اسنادوں سے حسن ہے بعض سے غریب لہذا جن لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف کہا غلط کہا چند اسنادوں سے تو ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے اس کی کتاب اﷲ سے بھی تائید ہوتی ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمٰنِکُمْ"۔منافقین نے حضور کی شان میں بکواس بکی تھی،پوچھ گچھ پر بولے کہ ہم تو مذاق کرتے تھے فرمایا بہانہ نہ بناؤ تم کافر ہوچکے۔معلوم ہوا کہ کفر و اسلام عمدًا ومذاقًا ہر طرح ثابت ہوجاتا ہے اور اس پر احکام شرعیہ مرتب ہوجاتے ہیں۔
|
3285 -[12] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه قيل: معنى الإغلاق: الْإِكْرَاه |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہیں ہے طلاق نہ آزادی مجبوری میں ۱؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)کہا گیا ہے کہ اغلاق کے معنی جبر ہیں ۲؎ |
۱؎ یعنی اگر جبرًا کسی سے اس کی بیوی کو طلاق دلوادی گئی تو طلاق واقع نہ ہوگی یہ ہی مذہب ہے امام شافعی و احمد کا ،ہمارے امام اعظم کے ہاں مجبور کی طلاق ہوجاتی ہے،ان کی دلیل وہ حدیث ہے جو امام محمد نے حضرت صفوان ابن عمر طائی سے روایت کی کہ مدینہ پاک میں ایک عورت اپنے خاوند سے سخت نفرت کرتی تھی ایک دن دوپہر کو خاوند سورہا تھا،یہ چھری لے کر سر پر کھڑی ہوگئی اور بولی مجھے تین طلاقیں دو ورنہ ابھی ذبح کردوں گی وہ بہت چیخا چلایا آخر کار تین طلاقیں دے دیں، پھر یہ مسئلہ بارگاہ رسالت میں پیش ہوا تو حضور نے فرمایا"لَا قَیْلُوْلَۃَ فِی الطَّلَاقِ"امام شمنی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث امام عقیل نے بھی اپنی کتاب میں نقل کی۔اس سے معلوم ہوا کہ مجبور کی طلاق ہوجاتی ہے رہی وہ حدیث کہ"رفع عن امتی الخطاء والنسیان و ما استکرھوا علیہ"یعنی میری امت سے خطاء بھول اور مجبوری کی چیزیں اٹھائی گئی وہاں اخری گناہ مراد ہے کہ ان چیزوں پر آخرت میں گناہ نہ ہوگا دنیاوی احکام جاری ہونا مراد نہیں،اگر کوئی کسی کو جبرًا قتل کردے تو اسے قاتل مانا جاوے گا۔یہاں اغلاق کے معنی امام صاحب کے نزدیک سخت غصہ ہے جس سے انسان کی عقل بند ہوجائے کہ ایسے مخبوط الحواس غصہ والے کی طلاق نہیں ہوتی لہذا یہ حدیث امام صاحب کے خلاف نہیں۔(مرقات ولمعات وغیرہ)
۲؎ یعنی بعض شارحین نے فرمایا کہ اغلاق کے معنی ہیں جبر،بعض نے فرمایا اس کے معنی ہیں سخت غصہ جس سے عقل جاتی رہے، بعض نے فرمایا دیوانگی۔خیال رہے کہ امام شعبی،نخعی سفیان ثوری کا یہ ہی مذہب ہے کہ مجبور کی طلاق ہوجاتی ہے۔امام مالک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع