30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنت میں پہنچ کر بھی وہاں کی خوشبو سے محروم رہے گی جیسے یہاں نزلہ و زکام والا آدمی پھول ناک پر رکھ کر بھی خوشبو نہیں پاتا۔ (مرقات)مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔
|
3280 -[7] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ الطلاقُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ناپسندیدہ ترین حلال اﷲ کے نزدیک طلاق ہے ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی اﷲ تعالٰی نے ضرورت عباد کی بنا پر طلاق مباح تو کردی ہے مگر رب کو پسند نہیں کہ اس میں دو محبوبوں کی جدائی گھر بگڑنا اولاد کی تباہی ہے غرضکہ بلا وجہ طلاق کراہت سے خالی نہیں بہت سی چیزیں حلال ہیں مگر بہتر نہیں جیسے بلا عذر مرد کا گھر میں نماز پڑھ لینا یا اذان جمعہ ہوچکنے کے بعد تجارت کرنا یا غیر معتکف کا مسجد میں کھانا پینا لہذا حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حلال چیزنا پسند کیسے ہوسکتی ہے اور نہ یہ اعتراض ہے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی سودہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیوں فرمایا تھا، امام حسن نے بہت بیویوں کوطلاق کیوں دی حلال کام پر نہ گناہ ہے نہ عتاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض وہ کام کیے ہیں جو امت کے لیے مکروہ ہیں کیوں،تبلیغ کے لیے آپ کو ان پر بھی ثواب ملے گا جیسے منبر پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا،اونٹ پر طواف کرنا،نواسے کو کندھے پر لے کر نماز ادا کرنا، حضرت حسین علیہ السلام کے لیے خطبہ جمعہ توڑ کر آگے جا کر انہیں گود میں لے لینا وغیرہ یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ اِنۡ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ"وہاں طلاق میں گناہ کی نفی ہے،یہاں بہتر نہ ہونے کا ثبوت۔
|
3281 -[8] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا طَلَاقَ قَبْلَ نِكَاحٍ وَلَا عَتَاقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ وَلَا وِصَالَ فِي صِيَامٍ وَلَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ وَلَا رَضَاعَ بَعْدَ فِطَامٍ وَلَا صَمْتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ |
روایت ہے حضرت علی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں نکاح سے پہلے طلاق نہیں ۱؎ اور نہیں ہے آزاد کرنا مگر ملکیت کے بعد۲؎ اور نہیں ہے وصال روزوں میں ۳؎ اور نہیں ہے یتیمی بلوغ کے بعد۴؎ اور نہیں ہے شیرخوارگی دودھ چھوٹنےکے بعد ۵؎ اور نہیں ہے خاموشی دن بھر کی رات تک ۶؎(شرح لسنہ) |
۱؎ لہذا اگر کوئی شخص اجنبیہ عورت سے کہے کہ تجھے طلاق ہے پھر اس سے نکاح کرے تو طلاق واقع نہ ہوگی یوں ہی اگر اجنبیہ عورت سے کہے کہ اگر تو گھر میں گئی تو تجھے طلاق پھر اس سے نکاح کرے،پھر وہ عورت گھر میں جائے تو طلاق نہیں واقعی ہوگی۔لیکن اگر اجنبیہ عورت سے کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق پھر اس سے نکاح کرے تو طلاق واقع ہوجائے گی غرضکہ طلاق کے لیے ضروری ہے کہ یا تو نکاح کے بعد بولی جائے یا نکاح پر معلق کی جائے۔
۲؎ یعنی دوسرے کے غلام کو یہ شخص آزاد نہیں کرسکتا اگر اس سے آزادی کے الفاظ کہہ دے پھر اس کا مالک ہوگیا تو وہ غلام آزاد نہ ہوگا۔
۳؎ یعنی روزہ پر روزہ رکھنا درمیان میں افطار نہ کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے کوئی اور نہیں رکھ سکتا ہم کو افطار کرنا ضروری ہے۔
۴؎ جس کا باپ فوت ہوجائے وہ یتیم کہلاتا ہے بشرطیکہ نابالغ ہو بالغ لڑکا یتیم نہیں کہلاتا۔
۵؎ لہذا جو بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے،ڈھائی برس عمر کے بعد تو وہ عورت اس بچہ کی رضاعی ماں نہ بنے گی نہ یہ بچہ اس کا دودھ کا بیٹا ہوگا اور نہ اس پر رضاعت کے احکام جاری ہوں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع