دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3277 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فِي الْحَرَامِ يُكَفَّرُ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ الله أُسْوَة حَسَنَة

روایت ہے حضرت ابن عباس سے آپ نے حرام کے بارے میں فرمایا کہ کفارہ دے ۱؎ بے شک تمہارے لیے رسول اﷲ میں اچھی پیروی ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی اگر کوئی شخص اپنی بیوی یا کسی اور حلال چیز کو اپنے پر حرام کرے تو یہ تحریمہ قسم ہے جس میں کفارہ واجب ہوگا یہ ہی قوی ہے۔حضرت ابن عباس اور امام اعظم کے ہاں اگر طلاق کی نیت سے حرام کرے تو ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی اس کی تحقیق کتب فقہ میں ہے۔

 ۲؎ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پر شہد یا بی بی ماریہ کو حرام کیا تھا تو رب تعالٰی نے اسے قسم قرار دیا تھا کہ فرمایا:"یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللہُ"پھر فرمایا قَدْ فَرَضَ اللہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیۡمٰنِکُمْ"۔اس آیت سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ حلال کو حرام کرلینا قسم ہے۔

3278 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَشَرِبَ عِنْدَهَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَلَنْ أَعُودَ لَهُ وَقَدْ حَلَفْتُ لَا تُخْبِرِي بِذَلِكِ أَحَدًا» يَبْتَغِي مرضاة أَزوَاجه فَنَزَلَتْ: (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ الله لَك تبتغي مرضاة أَزوَاجك)الْآيَة

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش کے پاس کچھ ٹھہرتے تھے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے ۱؎ تو میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا ۲؎ کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو وہ کہہ دیں کہ میں آپ سے مغافیر کی بوپاتی ہوں ۳؎ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ۴؎ چنانچہ ان دونوں بیویوں میں سے ایک کے پاس حضور تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا ۵؎ تو فرمایا کوئی مضائقہ نہیں۶؎ ہم نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اب نہ پئیں گے اور ہم نے اس کی قسم کھائی ۷؎ اس کی خبر کسی کو نہ دینا۸؎ آپ اپنی بیویوں کی رضا چاہتے تھے ۹؎ تب یہ آیت اتری اے نبی آپ وہ چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو اﷲ نے آپ کے لیے حلال کی اپنی بیویوں کی مرضی تلاش کرتے ہو ۱۰؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی باری کے علاوہ جب سرکار بعدنماز عصر تمام ازواج پاک کے پاس دورہ فرماتے تو بی بی زینب کے پاس زیادہ ٹھہرتے تھے کیونکہ حضور کو شہد پسند تھا اور حضرت زینب کے پاس شہد ہوتا تھا وہ آپ کو پلاتی تھیں اس شہد پینے میں دیر لگتی تھی۔

۲؎ یہ مشورہ اس لیے تھا کہ ہم کو حضور کا زینب کے پاس زیادہ ٹھہرنا پسند نہ تھا۔

۳؎ مغافیر جمع ہے مغفور کی یا مغفر کی یہ ایک درخت خار دار کا پھل ہے جسے عربی میں عضاہ کہتے ہیں جیسے عرفط یہ پھل میٹھا ہوتا ہے مگر قدرے بو ہوتی ہے(ہیک)حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ کی بو بہت ناپسند تھی اسی لیے حضور نے کبھی کچا لہسن و پیاز نہ کھایا کہ اس سے منہ میں بو ہوتی ہے۔

۴؎  اس تمام مشورہ کا مقصد یہ تھا کہ اس بہانہ سے حضور کو بی بی زینب کے پاس زیادہ ٹھہرنے سے روکا جائے خیال رہے کہ جس گناہ کی بنیاد محبت رسول پر ہو اس سے توبہ نصیب ہوجاتی ہے۔دیکھو آدم علیہ السلام کا بیٹا قابیل ایک عورت کے عشق میں گناہ کا مرتکب

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن