30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور بھی حکمتیں بیان کی گئی ہیں مگر یہ زیادہ قوی ہے۔(از نووی شرح مسلم و مرقات و لمعات)غرضکہ یہ حکم شرعی نہیں بلکہ رائے ہے جس پر عمل مستحب ہے۔
۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ جس طہر میں طلاق دینا ہو اس میں عورت سے صحبت نہ کرے یہ ہی فقہاء فرماتے ہیں۔
۶؎ یعنی قرآن کریم جو فرماتاہے:"فَطَلِّقُوۡہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ"اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ طلاق طہر میں دو اور طہر بھی وہ ہے جس میں صحبت نہ کی ہو۔خیال رہے کہ امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے ہاں لِعِدَّتِہِنَّ کالام بمعنی فی نہیں بلکہ بمعنی اجل ہے یعنی انہیں عدت کے لحاظ سے طلاق دو صحبت سے خالی طہر میں تاکہ عدت معلوم رہے کہ اس کی عدت حیض ہے یا وضع حمل،امام شافعی کے ہاں یہ لام بمعنی فی ہے یعنی انہیں عدت کے زمانہ میں طلاق دو اس بنا پر وہ فرماتے ہیں کہ عدت غیر حاملہ کی طہر ہے ہمارے ہاں حیض۔
۷؎ معلوم ہوا کہ حاملہ عورت کو طلاق دینا جائز ہے اس کی عدت حمل جن دینا ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ رجعت میں عورت کی رضا ضروری نہیں اگر عورت رجوع سے ناراض بھی ہو خاوند رجوع کرسکتا ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَبُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ"۔خیال رہے کہ بہتر یہ ہی ہے کہ مرد صرف ایک ہی طلاق دے وہ بھی ایسے طہر میں جس میں صحبت نہ ہوئی ہو اور اگر تین طلاقیں دینا ہی ہوں تو ہر طہر میں ایک طلاق دے،عدت پہلی طلاق سے شروع ہوگی، ایک دم تین طلاقیں دے دینا حرام ہے لیکن اگر دے دیں تو واقع ہوجائیں گی جیسے بحالت حیض طلاق دینا حرام لیکن اگر دے تو واقع ہوجائے گی اس کے لیے ہماری کتاب"تلاق الادلۃ فی الطلاق الثلثۃ"کا مطالعہ کیجئے۔
|
3276 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا شَيْئًا |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا تو ہم نے رسول اﷲ کو اختیار کرلیا تو اسے ہم پر کچھ بھی شمار نہ کیا گیا ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی اگر خاوند اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دے مگر عورت خاوند کو اختیار کرے طلاق نہ دے تو اس اختیار دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج پاک کو طلاق کا اختیار دیا ان تمام نے حضور کے پاس رہنا اختیار کیا تو کسی کو طلاق واقع نہ ہوئی یہ ہی مذہب ہے جمہور صحابہ کا اور یہ ہی قول ہے امام اعظم و امام شافعی و غیرہم رضی اللہ عنہم کا،مگر حضرت علی اور امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ اس صورت میں اگر عورت طلاق اختیار کرے تو طلاق بائنہ واقع ہوگی اور اگر خاوند کو اختیار کرے تو طلاق رجعی واقع ہوگی،حضرت ام المؤمنین ان ہی صاحبوں کی تردید فرمارہی ہیں حضرت علی و زید ابن ثابت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق کا اختیار دیا ہی نہ تھا بلکہ مقصد یہ تھا کہ اگر تم دنیا کی زینت چاہتی ہو تو میں تم کو طلاق دے دوں اگر طلاق کا اختیار ہوتا تو مجلس تک محدود رہتا حالانکہ حضور نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ جلدی نہ کرو اپنے ماں باپ سے پوچھ کر فیصلہ کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ارادہ طلاق تھا نہ کہ تفویض طلاق مگر تفویض طلاق دائمی بھی ہوتی ہے فوری بھی اور وقت معین تک کے لیے بھی یہ تفویض وقت معین کی تھی لہذا حضرت ام المؤمنین جمہور صحابہ کا قول قوی ہے۔(فتح القدیر اور مرقات وغیرہ)
|
3277 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فِي الْحَرَامِ يُكَفَّرُ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ الله أُسْوَة حَسَنَة |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے آپ نے حرام کے بارے میں فرمایا کہ کفارہ دے ۱؎ بے شک تمہارے لیے رسول اﷲ میں اچھی پیروی ہے ۲؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع