30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ معلوم ہوا کہ خلع میں اگر مرد کی طرف سے ابتداء ہو تو عورت کا قبول کرنا ضروری اور اگر عورت کی طرف سے ابتدا ہو تو مرد کا قبول کرنا لازم ہے آج کل جو عورتیں دھڑا دھڑ بذریعہ کچہری سے تنسیخ نکاح کرالیتی ہیں مرد راضی نہیں ہوتا اور اسے خلع کہتی ہیں محض غلط ہے۔
۶؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خلع میں عورت کا کام ہے مال دینا اور مرد کا کام طلاق دینا۔دوسرے یہ کہ خلق طلاق ہے فسخ نکاح نہیں۔تیسرے یہ کہ خلع میں بھی ایک طلاق بائنہ ہی دیجائے تین طلاقیں نہ دے تاکہ اگر پھر عورت و مرد راضی ہوں تو پھر نکاح کرسکیں۔
|
3275 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «ليراجعها ثمَّ يمْسِكهَا حَتَّى تطهر ثمَّ تحيض فَتطهر فَإِن بدا لَهُ أَنْ يُطْلِّقَهَا فَلْيُطْلِّقْهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطْلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلًا» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو بحالت حیض طلاق دیدی ۱؎ تو حضرت عمر نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں بہت ناراض ہوئے ۲؎ پھر فرمایا وہ رجوع کرلیں پھر اسے روکیں ۳؎ حتی کہ پاک ہوجائے پھر حیض آئے پھر پاک ہوجائے ۴؎ پھر اگر ان کی رائے اسے طلاق دینے کی ہو تو پاکی کی حالت میں انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دیں ۵؎ پس یہ ہی وہ عدت ہے کہ اﷲ نے حکم دیا کہ عورتوں کو اس لحاظ سے طلاق دی جائے ۶؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ انہیں حکم دو وہ رجوع کرلیں،پھر انہیں پاکی یا حمل کی حالت میں طلاق دیں ۷؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی اس حالت میں طلاق دی جب بیوی کو حیض آرہا تھا۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ عورت کو بحالت حیض طلاق دینا حرام ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ناراض نہ ہوتے اس پر تمام امت کا اجماع ہے۔
۳؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ بحالت حیض طلاق دینا اگرچہ حرام ہے مگر وہ طلاق واقع ہوجائے گی ورنہ رجوع کرنے کے کیا معنی ؟یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک یا دو طلاق رجعی ہوتی ہیں کہ عدت کے اندر خاوند رجوع کرسکتا ہے تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی۔
۴؎ یعنی طلاق والے حیض کے بعد جو طہر آئے اس میں طلاق نہ دیں بلکہ اس طہر کے بعد حیض آئے پھر اس دوسرے حیض کے بعد جو طہر آئے اس میں طلاق دیں۔بعض علماء کا یہ ہی مذہب ہے کہ حیض میں طلاق دینے والااس طلاق سے رجوع کرے پھر اگر طلاق دینا چاہے تو اس کے متصل طہر میں بھی طلاق نہ دے یہ طہر اس طلاق والے حیض کے تابع ہے اگر طہر میں طلاق دے گا تو گویا حیض ہی میں طلاق دے رہا ہے مگر حق یہ ہے کہ اس متصل طہر میں طلاق دے سکتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی اس لیے تھاکہ شاید اس طہر میں ساتھ رہنے بسنے سے دل مل جائے اور پھر طلاق کی ضرورت پیش نہ آئے یہ مشورہ مصلحت کی بنا پر ہے اس کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع