30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ بشرطیکہ خاوند مار کر شرائط و حدود کا لحاظ رکھے کہ بلا قصور نہ مارے ضرورت سے زیادہ نہ مارے،عداوت سے نہ مارے اصلاح کے لیے مارے تو خاوند پر اس مار کی پکڑ نہ ہوگی کیونکہ اس کی اجازت قرآن کریم نے دی رب تعالٰی فرماتاہے:" وَاضْرِبُوۡہُنَّ"مگر ساتھ میں قید لگاتا ہے"فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوۡا عَلَیۡہِنَّ سَبِیۡلًا"اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر زیادتی نہ کرو۔خیال رہے کہ باپ اولاد کو بڑا بھائی چھوٹے بھائی کو،نبی امتی کو،استاد شاگرد کو،پیر مرید کو اصلاح کے لیے مار سکتا ہے۔اگرغلطی سے بھی سزا دے دے تب بھی بڑے پر قصاص نہیں،دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے غلطی سے حضرت ہارون علیہ السلام کے بال نوچ کر اپنی طرف کھینچ لیا بعد میں پتہ لگا کہ وہ بے قصور ہیں تو رب تعالٰی نے انہیں قصاص دینے کا حکم نہ دیا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بعص موقعہ پر اپنے کو قصاص کے لیے پیش فرمایا وہ ہماری تعلیم کے لیے تھا ورنہ حضور پر قصاص کیسا۔اگر بادشاہ یا قاضی غلطی سے کسی ملزم کو سزا دے دے تو ان پر قصاص نہیں،حضور کی شان تو کہیں اعلیٰ ہے۔
|
3269 -[32] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْده فَقَالَت: زَوْجِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ وَلَا يُصَلِّي الْفَجْرَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَت فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا قَوْلُهَا: يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُهَا قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ» . قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ تَصُوم وَأَنا رجل شَاب فَلَا أَصْبِر فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا» وَأَمَّا قَوْلُهَا: إِنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإنَّا أهل بَيت قد عرف لنا ذَاك لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: «فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ يَا صَفْوَانُ فَصَلِّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں ایک عورت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئی اور ہم حضور کے پاس تھے بولی میرا خاوند صفوان ابن معطل ۱؎ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے اور جب روزہ رکھتی ہوں تو تڑوا دیتا ہے اور فجر کی نماز نہیں پڑھتا حتی کہ سورج نکل آتا ہے ۲؎ فرماتے ہیں صفوان حضور کے پاس تھے فرماتے ہیں حضور نے اس بیان کے متعلق ان سے پوچھا ۳؎ وہ بولے یارسول اﷲ لیکن اس کا یہ کہنا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے تو ایسی دو سورتیں پڑھتی ہیں جن سے میں نے اسے منع کیا ہے ۴؎راوی فرماتے ہیں تب اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر ایک سورہ ہوتی تو لوگوں کو کافی ہوتی ۵؎ بولے کہ رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں روزہ رکھتی ہوں تو توڑوا دیتا ہے تو یہ شروع ہوجاتی ہے تو روزہ ہی رکھتی رہتی ہے اور میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کرسکتا ۶؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عورت روزہ نہ رکھے بغیر خاوند کی اجازت کے ۷؎ رہا اس کا یہ کہنا کہ میں سورج نکلنے تک نماز نہیں پڑھتا۔تو ہم لوگ ایسے گھرانے والے ہیں کہ یہ بات ہماری مشہور ہے جانی پہچانی سورج نکلنے تک نہیں جاگ سکتے ۸؎ فرمایا اے صفوان جب تم لوگ جاگو تو نماز پڑھ لیا کرو ۹؎(ابوداؤد،ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع