30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی قصور کرنے پر اسے مارسکتے ہو مگر چہرے پر نہ مارو کیونکہ چہرہ میں نازک اعضاء ہیں اور انسان کا چہرہ رب کو بڑا ہی محبوب ہے خلق اﷲ آدم علی صورتہ۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ چار جرموں پر خاوند اپنی بیوی کو مار سکتا ہے:ایک بناؤ سنگار نہ کرنے،پاک صاف نہ رہنے پر جب کہ خاوند یہ چاہتا ہو،اور دوسرے بلا وجہ صحبت کے لیے پاس نہ آنے پر،تیسرے نماز روزہ وغیرہ شرعی احکام کی پابندی نہ کرنے پر،چوتھے بغیر اجازت گھر سے نکلنے پر مگراس مار میں اصلاح مقصود ہو نہ کہ ایذاء۔
۴؎ لا یقبّح کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اسے گالیاں نہ دو کہ اس سے تمہاری زبان گندی ہوگی،عورت کی عادت بگڑے گی، کیونکہ گالیاں سننے والا گالیاں بکنے بھی لگتا ہے،دوسرے یہ کہ اسے برے کاموں کا عیب نہ لگاؤ،بے عیب کو عیب لگانے سے وہ عیب دار ہو جاتا ہے۔بلکہ برائی دیکھ کر اکثر چشم پوشی کرلیا کرو۔
۵؎ یعنی اگر تم اس کی اصلاح کے لیے اس سے کلام و سلام بند کرو تو گھر سے باہر نہ نکال دو کہ اس سے وہ اور بھی آزاد ہوجائے گی، بلکہ گھر ہی میں رکھو،کھانا پینا جاری رکھو،صرف بول چال چھوڑ دو،یہ بائیکاٹ ان شاءاﷲ اس کے لیے پوری اصلاح کا ذریعہ ہوگا، رب تعالٰی فرماتاہے:" وَاہۡجُرُوۡہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ"۔
|
3260 -[23] وَعَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ يَعْنِي الْبَذَاءَ قَالَ: «طَلِّقْهَا» . قُلْتُ: إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا وَلَهَا صُحْبَةٌ قَالَ: «فَمُرْهَا» يَقُولُ عِظْهَا «فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَقْبَلُ وَلَا تَضْرِبَنَّ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت لَقیط ابن صبرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میری ایک بیوی ہے جس کی زبان میں کچھ ہے یعنی بدزبانی یا تیز زبانی ۲؎ فرمایا اسے طلاق دے دو میں نے عرض کیا کہ اس میں سے میرے بچے ہیں،اور اسے میری پرانی صحبت ہے ۳؎ فرمایا تو اسے حکم دو یعنی نصیحت کرو اگر اس میں بھلائی ہوئی تو قبول کرے گی ۴؎ اور اپنی بیوی کو اپنی لونڈی کی سی مار نہ لگاؤ ۵؎ (ابوداؤد) |
۱؎ آپ لَقیط ابن عامر ابن صبرہ ہیں،صبرہ آپ کے دادا ہیں،مشہور صحابی ہیں طائف کے رہنے والے(مرقات واشعہ)
۲؎ فرمایئے تیز زبان بیوی کو سزا کیا دی جائے۔حضرات صحابہ حضور کو حکیم مطلق مان کر اپنے گھریلو معاملات تک آپ پر پیش کرکے اصلاح چاہتے تھے۔
۳؎ یہاں طلاق کا حکم اباحت کے لیے ہے،بدزبان بیوی کو طلاق دے دینا مباح ہے ان صحابی کا یہ جواب طلاق سے معذرت کرنے کے لیے ہے کہ اس سے بچے برباد ہوجائیں گے مجھے تکلیف ہوگی۔
۴؎ معلوم ہوا کہ نافرمان بیوی کو وعظ و نصیحت کرنا بہت محبوب ہے،انسان پہلے اپنی اصلاح کرے پھر اپنے گھر والوں کی پھر عزیز و اقارب کی پھر دوسروں کی آج کل عمومًا واعظین وعلماء کی بیویاں ہی زیادہ نافرمان دیکھی گئی ہیں کیونکہ ان کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔
۵؎ ظعینہ ظعن سے بنا،سفر در ہودج چونکہ بی بی گھر میں ایسی رہتی ہے جیسے مسافر اونٹ پر ہودج میں اس لیے اسے ظعینہ کہا جاتا ہے امیہ امۃ بمعنی لونڈی کی تصغیر ہے یعنی بیویوں کو لونڈیوں کی طرح مار نہ لگاؤ،اس سے معلوم ہوا کہ معمولی مار کی اجازت ہے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی کسی بیوی کو کبھی نہ مارا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع