30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی ہمارے شریعت میں غیر خدا کو سجدہ حرام ہے، سجدہ عبادت کفر ہے، سجدہ تعظیم حرام،دوسری شریعتوں میں بندوں کو سجدہ تعظیم جائز تھا۔ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مالک احکام ہیں کہ فرماتے ہیں اگر میں کسی کو سجدہ کا حکم دیتا اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب سلطنت مصطفیٰ میں دیکھئے۔یہاں حکم سے مراد وجوبی حکم ہے یا استحبابی یا اباحت کا۔
۲؎ کیونکہ خاوند کے حقوق بہت زیادہ ہیں اور عورت اس کے احسانات کے شکریہ سے عاجز ہے اسی لیے خاوند ہی اس کے سجدے کا مستحق ہوتا۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ خاوند کی اطاعت و تعظیم اشد ضروری ہے اس کی ہر جائز تعظیم کی جائے،اسی قاعدے سے فقیر کہتا ہے کہ اگر اسلام میں کسی بندے کے لیے سجدہ جائز ہوتا تو میں اپنے نبی کو بلکہ ان کے نام کو سجدہ کرتا۔خیر دل تو ان کو ساجد ہی ہے۔شعر
اے جوش دل گر ان کو یہ سجدہ روا نہیں اچھا وہ سجدہ کیجئے کہ سر کو خبر نہ ہو
|
3256 -[19] وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو عورت مرجائے اس حال میں کہ اس کا خاوند اس سے راضی ہوا ۱؎ تو جنت میں جائے گی ۲؎ (ترمذی) |
۱؎ یہاں خاوند سے مراد مسلمان عالم متقی خاوند ہے(مرقات)یہ قیود بہت ہی مناسب ہیں،بعض بے دین خاوند تو عورت کی نماز سے ناراض ہوتے ہیں اس کے گانے بجانے،سنیما جانے،بے پردہ پھرنے سے راضی ہوتے ہیں یہ رضا بے ایمانی ہے۔
۲؎ مرتے ہی روحانی طور پر یا بعد قیامت جسمانی طور پر،کیونکہ اس نیک بی بی نے اﷲ کے حقوق بھی ادا کیے بندے کے حقوق بھی۔
|
3257 -[20] وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنور» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت طلق ابن علی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب مرد اپنی بیوی کو اپنی ضرورت کے لیے بلائے ۲؎ تو وہ فورًا اس کے پاس آئے اگرچہ تنور پر ہو ۳؎(ترمذی) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،یمامہ سے ایلچیوں قاصد وں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
۲؎ حاجت سے مراد صحبت ہے جب کہ یہ صحبت کرانے کے لائق ہو۔
۳؎ اور روٹیاں تنور میں لگادی ہوں کہ اس حال میں وہاں سے ہٹنا روٹیاں جل جانے کا سبب ہے مگر یہ جب ہے کہ روٹیاں خاوند کی ہوں اگر کسی دوسری کی ہیں تو نہ جائے،اگر گئی اور روٹیاں ضائع ہو گئیں تو اس کا تاوان دینا ہوگا۔
|
3258 -[21] وَعَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا إِلَّا قَالَت زَوجته مِنَ الْحُورِ الْعِينِ: لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت معاذ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا نہیں ستاتی کوئی عورت اپنے خاوند کو دنیا میں مگر اس کی حورعین بیوی کہتی ہے ۱؎ کہ خدا تجھے غارت کرے اسے نہ ستا کیونکہ یہ تیرے پاس مہمان ہے بہت قریب تجھے چھوڑ کر ہماری طرف آئے گا ۲؎ (ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع