30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۰؎ معنت بنا ہے عنۃ سے بمعنی گناہ مشقت،معنت دوسروں کو گناہ یا مشقت میں ڈالنے والا متعنت خود گناہ یا مشقت میں واقع ہونے والا،مطلب یہ ہے کہ دوسری بیویوں کو تمہارے جواب سے ضرور خبردار کروں گا تاکہ ان کے لیے تمہارا جواب مشعل راہ بنے اس جواب کی اشاعت مفید ہے چھپانا ان کے لیے مضر ہوگا۔چنانچہ ان بیویوں نے وہ ہی جواب دیا جو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ نے دیا تھا سب فقر و فاقہ پر راضی ہوگئیں۔اور سب نے حضور کے ساتھ زندگی گزارنے کو اﷲ کی بڑی نعمت سمجھا۔
۲۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ضرورت کے وقت حاکم عالم سلطان اپنے دروازے پر ڈیوڑھی بان کو سنبھال سکتے ہیں ورنہ عمومًا حضور کے دروازے پر حاجت ڈیوڑھی بان نہ ہوتے تھے،کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل نہ ہونا چاہیے،خواہ خاص دوست ہو یا اجنبی،اپنی جوان اولاد کو باپ سزا دے سکتا ہے اگرچہ اولاد شادی شدہ ہو،حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور ازواج پاک نے بخوشی اپنی زندگی مسکینیت میں گزاردی۔بالا خانہ پر رہنا درست ہے،خاوند اپنی بیوی کو طلاق کا اختیار دے سکتا ہے یہ اختیار دینا طلاق نہ ہوگا بلکہ اگر بیوی طلاق کو اختیار کرے تب طلاق ہوگی حضرت علی اور زید ابن ثابت و حسن سے جو مروی ہے کہ اختیار طلاق دینا ہی طلاق ہے شاید انہیں یہ حدیث نہ پہنچی(مرقات)
|
3250 -[13] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن عَائِشَة قَالَت: كنت أغار من اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا؟ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جنَاح عَلَيْك)قُلْتُ: مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَحَدِيثُ جَابِرٍ: «اتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاء» وَذكر فِي «قصَّة حجَّة الْوَدَاع» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں ان عورتوں پر غیرت کرتی تھی جو اپنی جانیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو بخش دیتی تھیں میں کہتی تھی کیا عورت اپنی جان بخشتی ہے ۱؎ پھر جب اﷲ تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ آپ ان عورتوں میں سے جسے چاہیں ہٹائیں جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور جن کو علیحدہ کردیا ہے ان میں جسے چاہیں بلالیں تو آپ پر کوئی گناہ نہیں ۲؎ تو میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے رب کو نہیں دیکھتی مگر وہ آپ کی خواہش پوری فرمانے میں جلدی کرتا ہے ۳؎ (مسلم،بخاری)اور حضرت جابر کی حدیث کہ عورتوں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو حجتہ الوداع کے قصہ میں ذکر کردی گئی ۴؎ |
۱؎ یعنی بعض عورتیں بارگاہ رسالت میں عرض کرتی تھیں کہ میں اپنی جان آپ کے سپرد کرتی ہوں میں اسے بے غیرتی سمجھتی تھی کہ عورت یہ جرأت کیسے کرتی ہے کہ اپنے کو مرد پر پیش کرے ؟۔
۲؎ اس آیت کے دو معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اے محبوب آپ کو اختیار ہے کہ جس بیوی کو چاہیں اپنے سے علیحدہ رکھیں کہ اس کے لیے باری کوئی مقرر نہ فرمائیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں۔ دوسرے یہ کہ اے محبوب جس عورت سے آپ چاہیں نکاح کریں اور اسے اپنے پاس رکھیں اور جس سے چاہیں نکاح نہ کریں،آپ پر تعداد ازواج کی کوئی پابندی نہیں،اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس آیت کی ناسخ ہے"لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعْدُ"۔
۳؎ ام المؤمنین نے اس آیت کی دوسری تفسیر اختیار فرمائی کہ آپ جس قدر عورتوں سے چاہیں نکاح کریں اس سے معلوم ہو کہ حضرت ام المؤمنین کا عقیدہ یہ تھا۔شعر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع