30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی جیسے کوئی شخص امانت یا عاریت کے اعلیٰ کپڑے پہن کر پھرے لوگ سمجھیں کہ یہ اس کے اپنے کپڑے ہیں،پھر بعد میں حال کھلنے میں بدنامی بھی ہو گناہ بھی ایسے یہ بھی ہے یا جیسے کوئی فاسق وفاجر متقی کا لباس پہن کر صوفی بنا پھرے پھر حال کھلنے پر رسوا ہو۔
|
3248 -[11] وَعَن أنس قَالَ: آلى رَسُول الله مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ آلَيْتَ شَهْرًا فَقَالَ: «إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیویوں سے ایک مہینہ کا ایلاء کیا ۱؎ اور آپ کا پاؤں موچ گیا تھا۲؎ تو آپ نے بالا خانہ میں انتیس۲۹ رات قیام کیا ۳؎ پھر نیچے تشریف لائے تو لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم آپ نے تو ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا،فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۴؎(بخاری) |
۱؎ ایلاء بنا ہے ولی سے بمعنی قرب ہمزہ سلب کی ہے یعنی قریب نہ جانا،شریعت میں ایلاء یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس چار ماہ تک نہ جانے کی قسم کھالے اس کا حکم یہ ہے کہ یا تو خاوند اپنی قسم توڑ لے کہ اس مدت میں ایلاء سے قولًا یا عملًا رجوع کرکے کفارہ قسم ادا کردے،یا ایلاء پورا کرے اور چارہ ماہ گزرتے ہی طلاق بائنہ واقع ہوجائے گی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ایلاء شرعی نہ تھا لغوی تھا کیونکہ ایک ماہ کا تھا اس ایلاء کا واقعہ بہت مشہور ہے کتب احادیث میں مذکور ہے۔
۲؎ گھوڑے سے گر جانے کی وجہ سے پاؤں شریف میں موچ آگئی تھی یا پاؤں اتر گیا تھا۔(اشعہ)مرقات نے فرمایا کہ غالبًا نماز میں زیادہ کھڑے رہنے کی وجہ سے پاؤں شریف پر ورم آگیا تھا اور تکلیف ہوگئی تھی جسے راوی نے انفکت سے بیان فرمایا۔(مرقات)
۳؎ مشرقہ میم کے فتح رکے پیش سے مشرعہ کی طرح بمعنی بالا خانہ غرفہ جسے پنجاب میں چھتی کہا جاتا ہے وہ بالا خانہ ایسا پر تکلف نہ تھا جیسا آج کل امیروں کا ہوتا ہے یعنی ایلاء کے زمانہ میں سرکار کسی زوجہ پاک کے پاس نہ رہے بلکہ علیحدہ چھتی پر قیام فرمایا۔
۴؎ یعنی یہ مہینہ انتیس کا ہے آج ہمارے ایلاء کی مدت پوری ہوگئی اور ہم نے اسی مہینہ کا ایلاء کیا تھا ۔علماء فرماتے ہیں جو کسی خاص مہینہ کے روزے کی نذر مانے اور وہ انتیس دن کا ہو تو اس پر انتیس روزے ہی کافی ہوں گے مگر جو غیر معین مہینہ کے روزوں کی نذر مانے اس پر تیس۳۰ دن کے روزے ہی لازم ہوں گے اگرچہ وہ مہینہ انتیس دن کا ہو جس میں روزے رکھے۔(مرقات)
|
3249 -[12] وَعَن جَابر قَالَ: دخل أَبُو بكر رَضِي الله عَنهُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ قَالَ: فَأُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَائِهِ وَاجِمًا سَاكِتًا قَالَ فَقُلْتُ: لَأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ» . فَقَامَ أَبُو بكر إِلَى عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا وَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا كِلَاهُمَا يَقُولُ:تَسْأَلِينَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؟ فَقُلْنَ: وَاللَّهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا أبدا لَيْسَ عِنْدَهُ ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا أَوْ تِسْعًا وَعشْرين ثمَّ نزلت هَذِه الْآيَة:(يَا أَيهَا النَّبِي قل لِأَزْوَاجِك) حَتَّى بلغ (للمحسنات مِنْكُن أجرا عَظِيما)قَالَ: فَبَدَأَ بعائشة فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكِ أَمْرًا أُحِبُّ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْكِ» . قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَتَلَا عَلَيْهَا الْآيَةَ قَالَتْ: أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَشِيرُ أَبَوَيَّ؟ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ وَأَسْأَلُكَ أَنْ لَا تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِي قُلْتُ: قَالَ: «لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلَا مُتَعَنِّتًا وَلَكِنْ بَعَثَنِي معلما ميسرًا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق آئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضری کی اجازت لیں لوگوں کو آپ کے دروازہ پر بیٹھے پایا جن میں سے کسی کو اجازت نہ ملی تھی ۱؎ فرماتے ہیں کہ ابوبکر کو اجازت مل گئی آپ داخل ہوگئے پھر جناب عمر آئے اجازت مانگی انہیں بھی مل گئی ۲؎ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو غمگین خاموش بیٹھے پایا کہ آپ کی ازواج اردگرد تھیں ۳؎ آپ نے سوچا کہ میں ایسی بات کہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو ہنسا دوں۴؎ تو عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم حضور خارجہ کی بیٹی کو ملاحظہ فرماتے ۵؎ کہ اس نے مجھ سے خرچہ مانگا تو میں اس کی طرف بڑھا اس کی گردن مروڑی ۶؎ چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہنس پڑے ۷؎ اور فرمایا یہ جو میرے گرد بیٹھی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو مجھ سے خرچہ کا مطالبہ کرتی ہیں ۸؎ تو ابوبکر عائشہ کی طرف اٹھے ان کی گردن مروڑنے لگے اور حضرت عمر حفصہ کی طرف بڑھے وہ ان کی گردن مروڑنے لگے۹؎ یہ دونوں کہتے تھے کیا تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے وہ چیزیں مانگتی ہوجو ان کے پاس نہیں ہیں ۱۰؎ وہ بولیں اﷲ کی قسم ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے کبھی وہ چیز نہ مانگیں گی جو آپ کے پاس نہ ہو ۱۱؎پھر حضور ازواج سے ایک ماہ یا انتیس دن علیحدہ رہے ۱۲؎پھر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی اے نبی اپنی بیویوں سے فرما دو الیٰ قولہ تم میں سے نیک کار بیویوں کے لیے بڑا ثواب ہے ۱۳؎فرماتے ہیں کہ پھر حضور نے عائشہ سے ابتداء کی ۱۴؎ اے عائشہ تم پر ایک چیز پیش کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس میں جلدی نہ کرنا حتی کہ اپنے والدین سے مشورہ کرلو ۱۵؎ آپ بولیں یارسول اﷲ وہ کیا ہے ؟ تب حضور نے ان پر یہ آیت تلاوت کی ۱۶؎ آپ بولیں کیا آپ کے بارے میں یارسول اﷲ میں ماں باپ سے مشورہ کروں بلکہ میں اﷲ رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں ۱۷؎ اور حضور سے عرض ہے کہ اپنی ازواج میں سے کسی بی بی کو نہ بتائیں ۱۸؎ جو میں نے عرض کیا آپ نے فرمایا ان میں سے کوئی بی بی مجھ سے نہ پوچھے گی مگر میں خبر دوں گا ۱۹؎ یقینًا اﷲ نے مجھے نہ مشقت میں ڈالنے والا بھیجا نہ مشقت میں پڑنے والا ۲۰؎ لیکن مجھے بھیجا ہے علم سکھانے والا آسانی کرنے والا ۲۱؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع