دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۱؎ رات کے وقت صحبت کے لیے یا کسی اور خدمت کے لیے پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں،اس سے اشارۃً چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ گھر میں چند بستر رکھنا جائز ہے خاوند کا علیحدہ بیویوں کا علیحدہ،دوسرے یہ کہ صحبت میں پردہ علیحدگی بہت ضروری ہے،تیسرے یہ کہ عورت کا مرد کے بستر پر جانا بہتر ہے،بمقابلہ اس کے کہ مرد عورت کے بستر پرجائے عمومًا مرد کا بستر بمقابلہ عورت کے بستر کے پاک و صاف ہوتا ہے عورت کا بستر بچوں کی وجہ سے میلا۔

۲؎  بغیر عذر آنے سے انکار کردے۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ بحالت حیض بھی مرد کے بلانے پر پہنچ جائے کہ حیض میں صحبت حرام ہے نہ کہ بوس و کنار اور ساتھ لیٹنا وغیرہ۔(مرقات)

 ۳؎ یہاں رات کو بلانے کا خصوصیت سے ذکر ہے اس لیے ہوا کہ عمومًا بیویوں کے پاس رہنا سہنا رات ہی کو ہوتا ہے دن میں کم ورنہ اگر دن میں خاوند بلائے عورت نہ آئے تو شام تک فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں،رات کی لعنت صبح کو اس لیے ختم ہوجاتی ہے کہ صبح ہونے پر خاوند کام و کاج میں لگ جاتا ہے رات کا غصہ ختم یا کم ہوجاتا ہے۔

۴؎ اﷲ تعالٰی جس کی حکومت،ملکیت،آسمان میں بھی ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰہٌ"اگرچہ زمین و آسمان والا مکان سب ہی اﷲ تعالٰی کی ملکیت ہیں مگر چونکہ آسمان فیض دینے والا ہے زمین فیض لینے والی،اس حیثیت سے آسمان زمین سے اشرف ہے اسی لیے صرف آسمان کا ذکر ہوا،یا آسمان میں رہنے والے فرشتے،تب یہ حدیث پچھلے مضمون کے موافق ہے،اس سے معلوم ہوا کہ آسمان میں رہنے والے فرشتے زمین والوں کے ہر کھلے چھپے حالات سے خبردار ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا علم ان فرشتوں سے کہیں زیادہ ہے آپ بھی ہمارے ہر ظاہر و پوشیدہ حالات سے باخبر ہیں۔

۵؎ معلوم ہوا کہ خاوند کی رضامیں رب تعالٰی اور فرشتوں کی رضا ہے جب خاوند کی رضا مندی شہوت نفسانی میں اتنی اہم ہے تو دینی امور میں اسے راضی کرنا کتنا ضروری ہوگا،مگر خیال رہے کہ شرعی حرام کاموں میں خاوند تو کیا کسی کی رضا حاصل نہ کرے،لہذا بحالت حیض خاوند کو صحبت نہ کرنے دے۔

3247 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ضَرَّةً فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي يُعْطِينِي؟ فَقَالَ: «الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»

روایت ہے حضرت اسماء سے کہ ایک عورت نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ میری ایک سوکن ہے ۱؎ تو کیا مجھ پر اس میں گناہ ہے کہ اپنے خاوند کا کوئی عطیہ ظاہر کروں جو اس کے علاوہ ہو ۲؎ تو فرمایا نہ دی ہوئی چیز کا ظاہر کرنے والا جھوٹے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ عربی میں سوکن کو ضرۃ کہتے ہیں ضرہ ضرۃ سے بنا ہے بمعنی نقصان چونکہ سوکن ضررونقصان کا سبب ہے یا نقصان پہنچانے کی عمومًا کوشش کرتی ہے اس لیے اسے ضرہ کہتے ہیں،اس کا دوسرا نام فطینہ بھی ہے،بمعنی بہت سمجھ دار،ہر سوکن اپنی سوکن کے عیوب سمجھنے میں بڑی فطینہ ہوتی ہے اسی لیے اسے فطینہ کہتے ہیں۔(مرقات)

۲؎ یعنی میں اپنی سوکن کو جلانے،طیش دلانے کے لیے یہ ظاہر کردوں کہ خاوند بمقابلہ تیرے مجھے زیادہ دیتا ہے مثلًا اپنے میکے کا جوڑا پہن کر دکھاؤں کہ خاوند نے دیا ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن