30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے معلوم ہوتا ہے کہ بچیوں کے لیے گڑیاں بنانا ان سے کھیلنا جائز ہے کہ یہ دراصل ان کو سینے پرونے اور کھانا تیار کرنے کی تعلیم کا ذریعہ ہے۔
۲؎ اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے بچوں کے کھلونے جائز فرمائے اگرچہ وہ شکل والے ہوں لہذا تصاویر کے حکم سے وہ علیحدہ ہیں۔ینقمعن قمع سے بنا بمعنی چھپ جانا،یہاں چلا جانا مراد ہے کہ چلے جانے سے بھی انسان چھپ جاتا ہے۔
۳؎ خلاصہ یہ ہے کہ محلہ کی بچیاں میرے ساتھ گڑیاں کھیلتی تھیں جب سرکار عالی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لاتے تو وہ اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور جب حضور باہر تشریف لیجاتے تو ان بچیوں کو ان کے گھروں سے میرے پاس بھیج دیتے تاکہ میرے ساتھ کھیلیں۔
|
3244 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهَا قَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِالْحِرَابِ فِي الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بردائه لِأَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ بَيْنَ أُذُنِهِ وَعَاتِقِهِ ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ على اللَّهْو |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوجاتے اور حبشی بچےمسجد میں نیزے بازی کرتے تھے ۱؎ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے اپنی چادر سے پردہ کراتے تاکہ میں آپ کے کان و کاندھے کے درمیان ان کا کھیل دیکھوں ۲؎ پھر آپ میری وجہ سے کھڑے رہتے حتی کہ میں ہی لوٹ جاتی تو تم اندازہ لگالو،نو عمر لڑکی کے کھیل کی شوقین کا ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ مسجد سے مراد یا تو خارج مسجد ہے جسے رحبہ کہا جاتا تھا چونکہ وہ جگہ مسجد سے بالکل ملی ہوئی تھی اس لیے اسے مسجد فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ خود مسجد میں ہی یہ کھیل ہوتا تھا کیونکہ یہ بظاہر تو کھیل تھا مگر درحقیقت تیر اندازی کی مشق یعنی جہاد کی تیاری تھی اور یہ تیاری عبادت ہے لہذا مسجد میں جائز،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسْتَطَعْتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الْخَیۡلِ"۔ (اشعہ لمعات،مرقات)
۲؎ بعض علماء نے فرمایا کہ یہ واقعہ پردہ کا حکم آنے سے پہلے کا ہے ورنہ آپ کبھی اجنبی لوگوں کا کھیل نہ دیکھتیں۔(مرقات)فقیر کا خیال ہے کہ پردہ کا حکم آچکنے کے بعد کا ہے ورنہ سرکار عالی چادر اور اپنے جسم شریف سے آڑ نہ کرتے لہذا یا تو وہ حبشی بچے تھے نہ کہ جوان، بچوں کا کھیل دیکھنا جائز چونکہ وہاں جوانوں کے آجانے کا بھی احتمال تھا اس لیے احتیاطًا حضور نے آڑ فرمالی،یا یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب مردوں کو حرام تھا کہ اجنبی عورتوں کو دیکھیں مگر عورتوں پر مردوں کا دیکھنا حرام نہ تھا،پھر دو طرفہ پردہ فرض ہوگیا جیسا کہ اپنے مقام پر ظاہر ہے لہذا اس حدیث پر چکڑالوی وغیرہ اعتراض نہیں کرسکتے نہ اپنی بیویوں کو سینما لے جانے والے استدلال کرسکتے ہیں۔
۳؎ یعنی میں نو عمر بچی بھی تھی اور کھیل تماشہ دیکھنے کی شوقین بھی،تم اندازہ لگالو کہ میں کتنی دیر تک کھڑی رہتی ہوں گی مگر قربان جاؤں اس اخلاق مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے آپ خود وہاں سے نہ ہٹتے تھے نہ مجھے اندر جانے کاحکم دیتے تھے بلکہ میری خاطر بہت دیر تک کھڑے رہتے تھے۔
|
3245 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لأعْلم إِذا كنت عني راضية وَإِذا كنت عني غَضْبَى» فَقُلْتُ: مِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: " إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكَ تَقُولِينَ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ". قَالَتْ: قُلْتُ: أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ۱؎ ہم جانتے ہیں جب تم ہم سے راضی ہوتی تھیں،اور جب تم ہم پر ناراض ہوتیں۲؎ میں نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم آپ کہاں سے پہنچانتے تھے ۳؎ فرمایا جب تم ہم سے خوش ہوتی تو کہتی تھیں محمد مصطفی کے رب کی قسم اور جب تم ہم سے ناخوش ہوتیں تو کہتی تھیں،جناب ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم ۴؎ میں بولی ہاں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی تھی ۵؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع