30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دی،جب آپ نماز کو تشریف لے گئے تو راستہ میں بی بی سودہ نے آپ کا دامن پکڑ کر یہ عرض کیا جو یہاں مذکور ہے تو آپ نے رجوع فرمایا،مگر روایت اول صحیح ہے۔خیال رہے کہ زوجہ کے قصور کے بغیر بھی طلاق دے دینا جائز ہے نکاح کا باقی رکھنا مرد کا اپنا مستقل حق ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو تو اس بارے میں خصوصی اختیار ہے،یہ بھی خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مطلقہ بیوی نکاح کرسکتی ہے،جو حضور کی وفات کے بعد رہیں وہ کسی سے نکاح نہیں کرسکتیں،کیوں ؟ اس لیے کہ حضور زندہ ہیں ان کی ازواج بیوہ نہیں،خاوند والیاں بیویاں ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزْوٰجَہٗ مِنۡۢ بَعْدِہٖۤ اَبَدًا"اگر مطلقہ بیوی بھی کسی سے نکاح نہیں کرسکتیں تو طلاق سے فائدہ کیا ہوتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع