دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3232 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فأيهن خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج پاک کے درمیان قرعہ ڈالتے تھے۱؎ پھر ان میں سے جس کا حصہ نکل آیا اسے اپنے ساتھ لیجاتے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اس طرح کہ ہر بی بی کا نام کاغذ کی پرچیوں پر لکھ کر ان کی گولیاں بنا کر کسی بچے کے ذریعہ ایک گولی اٹھواتے،اس میں جس کا نام نکل آتا،اس کو سفر میں لے جاتے،قرعہ ڈالنے کی اور بھی کئی صورتیں ہیں،مگر یہ زیادہ مروج ہے۔

۲؎ اس حدیث کی بناء پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ گھر کی طرح سفر میں لے جانے میں بھی باری واجب ہے اور قرعہ کے ذریعہ لے جانا واجب ہے،مگر یہ دلیل نہایت ہی ضعیف ہے چند وجہ سے:ایک یہ کہ اگر سفر میں باری واجب ہوتی تو قرعہ کی ضرورت نہ پڑتی بلکہ ترتیب وار لے جانا واجب ہوتا کہ پہلے سفر میں ساتھ فلاں بی بی گئی تھی اب فلاں چلے،دوسرے یہ کہ یہ حضور انور کا فعل شریف ہے اور فعل سے بغیر امروجوب ثابت نہیں ہوتا حضور نے اس کا حکم نہ دیا۔تیسرے یہ کہ یہ عمل شریف بھی حضور نے اپنی طرف سے کیا حکم خداوندی نہ تھا،آپ پر بیویوں میں عدل گھر میں ہی واجب نہ تھا چہ جائیکہ سفر میں واجب ہوتا لہذا حق یہ ہی ہے کہ سفر میں باری مقرر کرنا واجب نہیں،جسے چاہے لے جائے،جسے چاہے چھوڑ دے،بعض بیویاں گھر کے انتظام کے لیے موزوں ہوتی ہیں بعض سفر کے انتظام کے لیے مناسب،ہاں مستحب ہے کہ قرعہ ڈال کر لے جائے،سرکار عالی کا یہ عمل شریف بیان استحباب کے لیے ہے دیکھو مرقات،لمعات فتح القدیر وغیرہ۔

3233 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدهَا سبعا وَقسم إِذا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَسَمَ. قَالَ أَبُو قلَابَة: وَلَو شِئْت لَقلت: إِن أَنَسًا رَفْعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

روایت ہے حضرت ابوقلابہ سے ۱؎ وہ جناب انس سے راوی فرماتے ہیں کہ سنت سے ہے ۲؎ یہ کہ جب کوئی شخص بیوہ پر کنواری سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات دن رہے اور باری مقرر کرے اور جب بیوہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین دن رہے پھر باری مقرر کرے ۳؎ ابوقلابہ نے فرمایا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ جناب انس نے یہ حدیث نبی کریم تک مرفوع کی ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎  آپ جلیل الشان تابعی ہیں،آپ کا نام عبداﷲ ابن زید جرمی ہے،آپ پر قضاء پیش کی گئی تو قبول نہ کی بلکہ قاضی بنائے جانے کے خو ف سے غیر معروف جنگل میں رہنے سہنے لگے   ۱۰۶ھ؁ میں شام میں وفات پائی۔

۲؎ یہ سنت قولی بھی ہے فعلی بھی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر عمل بھی کیا اور حکم بھی دیا۔

۳؎ یعنی باکرہ جدیدہ بیوی کے پاس سات دن ٹھہرے،پھر پرانی بیویوں کے پاس بھی سات سات دن ہی قیام کرے،اور بیوہ جدیدہ کے پاس تین دن ٹھہرے،پھر پرانی بیویوں کے پاس بھی تین تین دن ہی قیام کرے،غرضکہ یہ سات یا تین دن باریوں میں شمار ہوں گے یہ ہی احناف کا مذہب ہے قران کریم فرماتاہے:"فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوۡا فَوٰحِدَۃًآئندہ احادیث بھی اسی معنے کی تائید کررہی ہیں،امام شافعی کے ہاں اس کے معنی یہ ہیں کہ نئی بیوی کے پاس سات یا تین دن قیام کرکے پھر باری مقرر کرے،یہ قیام ان باریوں میں شمار نہ ہوگا،مگر احناف کا قول بہت قوی ہے،کیونکہ طریقہ شوافع عدل کے خلاف ہے عدل تمام بیویوں میں چاہیے نئی ہوں یا پرانی،قرآن کریم اور دیگر احادیث میں مطلقًا عدل کا حکم ہے نئی وپرانی میں فرق نہیں کیا گیا۔شوافع کے اس معنے کی بنا پر یہ حدیث قرآن کریم کے بھی خلاف ہوگی اور دیگر احادیث کے بھی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن