30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3223 -[14] وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبِ الَّذِي سَبَقَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب سے ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب دو دعوت دینے والے جمع ہوجائیں تو ان سے قریب تر دروازے والے کی دعوت قبول کرو ۲؎ اور اگر ان میں سے ایک پہلے آجائے تو پہلے کی دعوت قبول کرو ۳؎(احمد،ابوداؤد) |
۱؎ ان صحابی کانام معلوم نہ ہوسکا مگر چونکہ تمام صحابہ عادل متقی ہیں اس لیے یہ نامعلومیت مضر نہیں علاوہ صحابی کے اگر اور کسی راوی کا پتہ نہ لگے تو حدیث مجہول نامقبول ہوتی ہے۔
۲؎ یعنی جب تمہارے دو پڑوسی بیک وقت دعوت دیں اور دونوں دعوتیں متعارض ہوں تو زیادہ قریبی پڑوسی کی دعوت قبول کیجئے کہ اس کا حق زیادہ ہے،اس قرب میں زیادہ دروازہ کا قرب معتبر ہے نہ کہ گھر کا قرب رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی"۔
۳؎ یعنی نزدیک دور کا فرق جب ہوگا،جب کہ دونوں بیک وقت آپ کو دعوت دیں لیکن اگر ان میں سے ایک آپ کے پاس پہلے پہنچ جائے دوسرا بعد میں تو پہلے کی دعوت قبول کیجئے کہ پہلا مقدم ہے اور حقدار ہے۔
|
3224 -[15] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَعَامُ أَوَّلِ يَوْمٍ حق وَطَعَام يَوْم الثَّانِي سنة وَطَعَام يَوْم الثَّالِثِ سُمْعَةٌ وَمَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضر ت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ پہلے دن کا کھانا حق ہے دوسرے دن کا سنت ہے ۱؎ اور تیسرے دن کا کھانا نام و نمود ہے ۲؎ جو سنانا چاہے گا اﷲ اسے سنا دے گا۳؎(ترمذی)۴؎ |
۱؎ اس جملہ کے کئی معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ پہلے دن سے مراد شادی و برات کا دن ہے اور حق سے مراد مستحق ہے،یعنی برات والے دن کا کھانا مہمانوں کا حق ہے جو شرکت بارات کے لیے آئے ہیں اور دوسرے دن یعنی زفاف کے بعد ولیمہ کا کھانا سنت ہے مؤکدہ یا مستحبہ اس صورت میں حدیث بالکل واضح ہے دوسرے یہ کہ پہلے دن سے مراد زفاف کے بعد کا دن ہے اور دوسرے دن سے مراد اس دن کے بعد کا دن یعنی زفاف سے سویرے۔ دعوت ولیمہ حق درست ہے اور دوسرے دن کا کھانا بھی سنت ہے یعنی بدعت یا خلاف سنت نہیں، تیسرے یہ کہ زفاف کے سویرے کھانا دینا فرض یا واجب ہے جس میں بلاوجہ شرکت نہ کرنا گناہ دوسرے دن کا بھی کھانا سنت ہے،یہ تیسرے معنی ان کے مذہب پر ہیں جو ولیمہ کو واجب کہتے ہیں فقیر کے نزدیک پہلے معنی زیادہ قوی ہیں،چوتھے یہ کہ زفاف کے سویرے ولیمہ کا کھانا دینا برحق ہے،لیکن اگر کسی وجہ سے اس دن نہ دے سکے تو دوسرے دن دے دینا بھی سنت ولیمہ میں شامل ہے۔
۲؎ یعنی مسلسل تین دن تک کھانا دینا محض نام و نمود ہے ثواب نہیں یا زفاف کے تیسرے دن کھانا دینا سنت نہیں صرف نام و نمود ہے یہ حدیث حضرت امام مالک کی دلیل ہے کہ ان کے ہاں ولیمہ سات روز تک ہوسکتا ہے۔(از مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع