30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۳؎ جسم کی ظاہری زینت لباس اور زیور سے ہے،دل کی زینت ایمان سے اور بدن کی حقیقی زینت نیک اعمال سے ہے،خدایا تو مجھے جسمانی و دلی زینت نصیب کر۔
۱۴؎ اس طرح کہ ہم خود بھی ہدایت پر ہیں اور دوسروں کوبھی ہدایت پر رکھیں۔
۱۵؎ اسے حاکم،احمد اور طبرانی نے بھی روایت کیا۔
|
2498 -[17] وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْفَجْرِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَرِزْقًا طَيِّبًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعوات الْكَبِير |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نماز فجر کے بعد یہ کہتے تھے الٰہی میں تجھ سے نفع بخش علم، مقبول عمل اور حلال طیب روزی مانگتا ہوں ۱؎ (احمد،ابن ماجہ،بیہقی دعوات کبیر) |
۱؎ علم دل کا رزق ہے عمل بدن کی معنوی روزی اور حلال رزق ان دونوں کی اصل۔حرام روزی سے نہ دل میں نور معرفت پیدا ہو،نہ اعمال میں لذت آئے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ بغیر علم نافع کے عمل صالح کی توفیق نہیں ملتی،تم جس کا علم و عمل تو اچھا دیکھو مگر اس کی روزی حرام ہوتو اس کی مچھر کے پر برابر پرواہ نہ کرو۔عبادات خزانہ الٰہی میں محفوظ ہیں،دعا اس خزانہ کی چابی ہے اور رزق حلال اس چابی کے دانتے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اﷲ اس کی نماز قبول نہیں کرتا جس کے پیٹ میں حرام بھرا ہو۔خیال رہے کہ حضور علیہ الصلو ۃ والسلام کی یہ دعا بعد نماز فجر یا تو گھر میں ہوتی تھی یا مسجد میں مگر بلند آواز سے جو گھر تک پہنچ جاتی تھی یا حضرت ام سلمہ خود جماعت کی آخری صفوں میں ہوتی تھیں اس لیے آپ کی دعا سنتی تھی۔
|
2499 -[18] وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: دُعَاءٌ حَفِظْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَدَعُهُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ وَأَتَّبِعُ نُصْحَكَ وَأَحْفَظُ وصيتك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے ایک دعا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے یاد کی ہے جسے میں کبھی نہیں چھوڑتا،الٰہی مجھے تو ایسا کردے کہ تیرا بہت شکر کروں اور تیرا بہت ذکر کروں ۱؎ اور تیری نصیحت کی پیروی کروں اور تیری وصیت کی حفاظت کروں ۲؎ (ترمذی) |
۱؎ اُعْظِمَ اور اُکْثِرَ باب تفعیل سے بھی ہوسکتے ہیں اور باب افعال سے بھی مگر افعال سے ہونا زیادہ بہتر ہے یعنی الٰہی مجھے بہت نعمتیں دے اور ہر نعمت کے ہر شکر کی توفیق دے،شکر قولی بھی اور شکر عمل کی بھی اور مجھے توفیق دے کہ میں لسانی جنانی ارکانی ہر طرح تیرا ذکر کروں۔ذکر و شکر کی تفصیل ہماری"تفسیرنعیمی"جلد دوم میں دیکھئے۔
۲؎ نصیحت کے معنی ہیں خیر خواہی اور وصیت سے مراد رب کے تاکیدی حکم،چونکہ رب کے ہر حکم میں ہماری خیر خواہی ہے اگرچہ وہ حکم ہم پر گراں ہوں اور ہماری بہت دعائیں جو رد ہوجاتی ہیں۔اس میں بھی ہماری خیر خواہی ہوتی ہے کہ ہم ناسمجھی سے بری چیزیں مانگ لیتے ہیں اس لیے رب کی قضاء پر رضا اور اس کے احکام کی اتباع چاہیے۔
|
2500 -[19] وَعَن عبدِ الله بنِ عَمْروٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ وَالْعِفَّةَ والأمانةَ وحُسنَ الْخلق والرضى بِالْقدرِ» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم یہ فرمایا کرتے تھے اے اﷲ میں تجھ سے تندرستی،پاک دامنی،امانت داری اور اچھے اخلاق اور تقدیر پر رضا مانگتا ہوں ۱ ؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع