30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حاصل نشود رضائے سلطاں تا خاطر بندگاں بخوئی
۴؎ یعنی داؤد علیہ السلام اپنے زمانہ میں سب سے بڑے عابد تھے جیسے رب تعالٰی بنی اسرائیل سے فرماتا ہے:"اَنِّیۡ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیۡنَ"لہذا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ داؤد علیہ السلام،حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام یا ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے زیادہ عابد ہوں اور نہ یہ فرمان اس آیتِ کریمہ کے خلاف ہے جس میں نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں فرمایا گیا:"اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوۡرًا"۔
|
2497 -[16] وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلَّى بِنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَقَدْ خَفَّفْتَ وَأَوْجَزْتَ الصَّلَاةَ فَقَالَ أَمَا عَلَيَّ ذَلِكَ لَقَدْ دَعَوْتُ فِيهَا بِدَعَوَاتٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ تَبِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ هُوَ أَبِي غَيْرَ أَنَّهُ كَنَّى عَنْ نَفْسِهِ فَسَأَلَهُ عَنِ الدُّعَاءِ ثُمَّ جَاءَ فَأَخْبَرَ بِهِ الْقَوْمَ: «اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وقُدرتِكَ على الخَلقِ أَحْيني مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَى وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُكَ الرِّضَى بَعْدَ الْقَضَاءِ وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقِ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زِيِّنَا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيِّينَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ |
روایت ہے حضرت عطا بن سائب سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں ہم کو حضرت عمار ابن یاسر نے نماز پڑھائی تو اس میں اختصار فرمایا۲؎ تو ان سے بعض لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے نماز بہت ہلکی اور مختصر پڑھی تو فرمایا مجھے اس کا کوئی نقصان نہیں میں نے اس میں وہ دعائیں مانگ لی ہیں جو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنیں۳؎ جب آپ اُٹھے تو قوم میں سے ایک شخص آپ کے پیچھے چلا وہ میرے والد تھے،ہاں انہوں نے اپنی ذات کو کنایۃً ذکر کیا ۴؎ تو ان سے وہ دعا پوچھی پھر آئے وہ دعا قوم کو بتائی ۵؎ الٰہی اپنے علم غیب اور مخلوق پر اپنی قدرت کے صدقہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک کہ زندگی کو میرے لیے بہتر جانے اور وفات دے دے جب موت کو میرے لیے بہتر جانے ۶؎ الٰہی میں تجھ سے تیرا خوف مانگتا ہوں ظاہر و باطن میں ۷؎ اور تجھ سے خوشی و ناخوشی میں سچی بات کی توفیق مانگتا ہوں۸؎ اور تجھ سے امیری غریبی میانہ روی مانگتا ہوں ۹ ؎ اور تجھ سے نہ مٹنے والی نعمت مانگتا ہوں اور تجھ سے وہ آنکھ کی ٹھنڈک مانگتا ہوں جو بند نہ ہو ۱۰؎ اور تجھ سے رضا بقضا مانگتا ہوں اور تجھ سے بعد موت کے ٹھنڈی زندگی مانگتا ہوں ۱۱؎ اور تجھ سے تیری ذات کو دیکھنے کی لذت اور تیری ملاقات کا شوق مانگتا ہوں بغیر مضر چیز کے نقصان اور بغیر گمراہ کن فتنہ کے ۱۲؎ اے اﷲ ہم کو ایمان کی زینت سے آراستہ کر ۱۳؎ اور ہم کو ہدایت دینے والے ہدایت پانے والا بنا۱۴؎ (نسائی )۱۵؎ |
۱؎ حضرت عطاء تابعی ہیں اور ان کے والد سائب ابن یزید صحابی ہیں کہ ان کی پیدائش ۳ھ میں ہوئی ا ور حجۃ الوداع کے موقع پر آپ کی عمر سات سال تھی اپنے والد یزید کے ساتھ اس حج میں شریک ہوئے تھے۔(مرقات)
۲؎ غالبًا یہ کوئی نفل نماز تھی،بعض نوافل کی جماعت اہتمام سے بھی جائز ہے جیسے نماز کسوف اور بلا اہتمام تو ہر نفل کی جماعت جائز آپ نے یا تو اس نماز کی قرأت قرآن میں اختصار کیا یا دعائیں تھوڑی مانگیں۔لمعات نے پہلی بات کو ترجیح دی اور مرقات نے دوسری کو۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے ارکان نماز بھی صحیح طور پر ادا نہ کیے کہ یہ صحابہ کی شان سے بعید ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع