30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ اس جملہ کی بہت شرحیں ہیں،بہترین شرح یہ ہے کہ وارث سے مراد میراث ہے یعنی ہمارے تقویٰ اور مذکورہ نفع کو ہماری میراث بھی بنا کہ ہمارے بعد لوگ ہماری ان صفات کو اختیار کرلیں اور فائدے اٹھائیں،ہماری میراث صرف مال نہ ہو بلکہ مال،حال،اعمال،کمال اور خوف ذوالجلال سب کچھ ہماری میراث ہو۔خیال رہے کہ میراث اضطراری صرف یعنی رشتہ داروں کو ملتی ہے مگر میراث اختیاری تا قیامت سارے انسانوں کو۔کنویں،مساجد،سرائیں،قبرستان،وغیرہ موقوفہ چیزوں سے سبھی فائدہ اٹھاتے ہیں،یہ مال کی میراث اختیار ی ہے،علمائے کے علم،صوفیاء کے تقوےٰ اور حضور علیہ السلام کے کمالات سے تاقیامت دنیا فائدہ اٹھائے گی،سخیوں کی کمائی میں فقیر وں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔شعر
ہاتھ اٹھا کر ایک ٹکڑا اے کریم ہیں سخی کے مال میں حقدار ہم
۷؎ یعنی ہمیں توفیق دے کہ ہم بدلہ لینے میں بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑیں صرف ظالم سے ہی بدلہ لیں،جاہلیت والوں کی طرح ایک فرد کا بدلہ ساری قوم سے نہ لیں۔ثار کے لغوی معنی ہیں کینہ،غصہ اور بدلہ،اس جملہ کی اور بھی شرحیں کی گئیں ہیں مگر یہ شرح بہتر ہے۔
۸؎ اس طرح کہ ہمیں ذاتی دشمنوں کو معاف کرنے کی ہمت دے اور قومی و دینی دشمنوں کو مغلوب کرنے کی طاقت دے۔
۹؎ یعنی ہم پرایسی مصیبت نہ بھیج جو ہمارا دین برباد کردے کہ ہمیں بدعقیدہ بنادے یا ناقص کردے کہ ہم حرام کھانے لگیں یا عبادات میں کوتاہی کرنے لگیں۔
۱۰ ؎ یعنی نہ تو ہمارا یہ حال ہو کہ مال،عزت،سلطنت وغیرہ ہمارا اصل مقصد بن جائے اور نہ یہ حال ہو کہ ہمارے علم اور فکر دنیا ہی کے لیے وقف ہوں یا فقط ہم دنیاوی علوم ہی پڑھیں دینی علوم کی طرف توجہ ہی نہ دیں اور دینی علم بھی سیکھیں تو صرف اپنی تعظیم کرانے اور مال کمانے کے لیے،ر ب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ذٰلِکَ مَبْلَغُہُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ"۔اس دعا میں اشارۃً فرمایا گیا کہ دنیا کا قصد اور علم سے دنیا حاصل کرنا قدرے جائز ہے بلکہ اگر یہ دنیا دین کے لیے ہو تو اس کا طلب کرنا عبادت ہے،دنیا صفر ہے اور دین عدد،صفر اگر اکیلا ہو تو کچھ بھی نہیں اور اگر عدد سے مل جائے تو اسے دس گناہ کردیتی ہے۔
۱۱؎ یعنی دنیا میں ہم پر نفس امارہ،شیطان،کافر و ظالم سلطان کو مسلط نہ کر اور قبر و حشر میں عذاب کے فرشتوں کو ہم پر مقرر نہ فرما لہذا یہ جملہ نیا ہے پہلے جملوں کا تکرار نہیں۔
۱۲؎ اسے نسائی نے اور حاکم نے علٰی شرط بخاری نقل فرمایا۔
|
2493 -[12] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي وَزِدْنِي عِلْمًا الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم یہ فرمایا کرتے تھے الٰہی تو مجھے اس سے نفع دے جو تو نے مجھے سکھایا اور مجھے نافع چیزیں سکھا اور میرا علم بڑھا ۱؎ ہر حال میں اﷲ کا شکر ہے ۲؎ اور دوزخیوں کے حال سے اﷲ کی پناہ لیتا ہوں۳؎ (ترمذی،ابن ماجہ) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد سے غریب ہے۔ |
۱؎ علم چند قسم کے ہیں:نقصان دہ،بیکار،صرف اپنے کو نافع دوسروں کو بھی نافع،یہاں چوتھی قسم کے علم کی طلب ہے،بعض علم اوروں کو مفید خود اپنے کو مضر یا بیکار ہیں اس سے بھی اﷲ بچائے،جیسے بد عمل یا بے عمل عالم کا عمل۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ عالم بے عمل ایسا ہے جیسے شب تار میں اندھا شمع دار۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع