30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اگرچہ یہ چاروں قسم کی موتیں شہادت ہیں مگر چونکہ ناگہانی آفتیں بھی ہیں جن میں انسان مبتلا ہو کر کبھی گھبرا کر ایمان کھو بیٹھتا ہے اور ان سے موت ناگہانی بھی ہے جن میں توبہ اور تیاری موت کی مہلت نہیں ملتی اس لیے ان سے پناہ مانگی جیسے جہاد عبادت ہے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے امن و عافیت کی دعائیں مانگی ہیں اور ہر بیماری میں اجر ہےمگر سرکار نے اس سے پناہ مانگی (از لمعات)
۲؎ بڑھاپے سے مراد برابر بڑھاپا ہے جس میں مت کٹ جاتی ہے۔خبط سے مراد ہے دیوانگی یا بے عقلی،شیطان کا زیادہ زور موت کے وقت ہوتا ہے کیونکہ اسی پر اعمال کا مدار ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان دیوانگی اور بیماریاں انسان میں پیدا کرسکتاہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ"لہذا حضرات انبیاءکرام و اولیاءاﷲباذن پروردگار شفا بھی دے سکتے ہیں۔
۳؎ یہ دعا بھی تعلیم امت کے لیے ہے ورنہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جہاد میں پیٹھ پھیرنے اور وفات کے وقت شیطان کی مس سے محفوظ ہیں۔لدیغ ہر زہریلے جانور کے کاٹے ہوئے کو کہتے ہیں بچھو ہو یا سانپ۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس موت سے پناہ مانگی ہے لہذا وہ واقعہ اس دعا کے خلاف نہیں جو طبرانی نے سیدنا علی مرتضٰی سے نقل کیا کہ ایک بار حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو بچھو نے کاٹ لیا تو آپ نے اس پر پانی اور نمک لگایا اور سورۂ کافرون،فلق و ناس دم کی۔(مرقات)
۴؎ غم سے مراد وہ دنیوی سخت تکلیف ہے جو فکرِ آخرت سے روک دے۔
|
2474 -[18] وَعَنْ مُعَاذٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أستعيذُ بِاللَّهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى طَبَعٍ)رَوَاهُ أَحْمد وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير |
روایت ہے حضرت معاذ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا اﷲ کی پناہ مانگو اس طمع سے جو مہر لگ جانے تک پہنچادے ۱؎ (احمد،بیہقی دعوات الکبیر) |
۱؎ طمع کے لفظی معنے ہیں لوگوں سے مال کی امید ر کھنا اور طبع لوہے کی وہ زنگ ہے جو اسے مٹی بنادے(اشعہ)مگر یہاں طمع سے مراد نفس کا اپنی خواہشات میں محو ہوجانا ہے اور طبع سے مراد وہ عیب ہیں جو زائل نہ ہوسکیں یعنی خدایا مجھے اس دنیوی حرص سے بچالے جو حریص کو ذلیل کردیتی ہے اور اسے ذلت کا احساس بھی نہیں ہوتا،طبع مہر لگانے کو بھی کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے: "بَلْ طَبَعَ اللہُ عَلَیۡہَا"ظاہری گناہ کبھی دل پر مہر لگ جانے کا باعث بن جاتے ہیں خصوصًا حرص دنیا،مہر لگنے سے انسان برے بھلے میں تمیز نہیں کرتا۔حرص کا انجام یہ ہی ہے کہ حریص اچھا برا، حلال حرام ہر طرح کا مال رگڑ جاتا ہے،یہ شخص کتے سے بدتر ہے کہ کتا سونگھ کر چیز میں منہ ڈالتا ہے مگر یہ بغیر سوچے ہی۔
|
2475 -[19] وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا فَإِنَّ هَذَا هُوَ الْغَاسِقُ إِذا وَقب» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے چاند دیکھا ۱؎ تو فرمایا اے عائشہ اس کی شر سے اﷲ کی پناہ مانگو ۲؎ یہ ہی وہ غائب ہوجانے والا ہے گرہن لگتے وقت ۳؎(ترمذی) |
۱؎ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ تیسری تاریخ کے بعد کے چاند کو قمر کہتے ہیں،اس سے پہلے ہلال کہلاتا ہے۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ ھذا سے اشارہ چاند ہی کی طرف ہے نہ کہ رات کی طرف جیسا کہ بعض شارحین کا خیال ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع