30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ شقاق سے مراد ہے حق کی مخالفت یا حق والوں سے نفرت اور نفاق سے مراد نفاق اعتقادی و عملی دونوں ہیں۔بدخلقی سے مراد بری عادتیں ہیں جیسے زنا،چوری،حسد اور دوسروں سے ہمیشہ اکڑنا۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ زیادہ کھانا اور زیادہ سونا بھی بدخلقی ہے۔
|
2469 -[13] وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے انہی سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم عرض کرتے تھے الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے ۱؎ اور خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیر کار ہے ۲؎ (ابو داؤد،نسائی،ابن ماجہ) |
۱؎ بھوک سے وہ بھوک مراد ہے جو عبادات سے روک دے،خیال پراگندہ کردے کہ اس سے انسان بہت سے گناہ کر بیٹھتا ہے،روزہ کی بھوک تو عبادت ہے۔خیال رہے کہ کبھی زیادتی بھوک میں حرام حلال ہوجاتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَمَنِ اضْطُرَّ فِیۡ مَخْمَصَۃٍ"۔
۲؎ خیانت امانت کی ضد ہے۔خفیۃً کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اﷲ رسول کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا،رب تعالٰی فرماتا ہے: "لَا تَخُوۡنُوا اللہَ وَالرَّسُوۡلَ وَتَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمْ"۔بطانۃ،استر،ظہارہ،ابرہ،اب بطانہ وہ خفیہ بات جو پیٹ میں رکھی جائے پھر مشیر خاص کو جو اپنا صاحب اسرار ہو اور خلوت و جلوت میں ساتھ رہے بطانہ کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنْ دُوۡنِکُمْ"یہاں یہ آخری معنی ہی مراد ہیں۔
|
2470 -[14] وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُذَامِ وَالْجُنُونِ وَمِنْ سَيِّئِ الأسقام» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم یہ پڑھا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں برص سے کوڑھ سے دیوانگی سے ۱؎ اور بری بیماریوں سے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ برص یا تو جسم کے سفید داغ ہیں اور جسم میں سودا پھیل کر جو اعضاء کی اصل صورت بدل دے جس سے کبھی انگلیاں جھڑ جاتی ہیں،جسم پر پھوڑےپھیل جاتے ہیں یہ جذام ہے یعنی کوڑھ اور عقل کا جاتا رہنا یا بگڑ جاناجنون ہے،چونکہ برص و جذام میں تکلیف بھی ہے اور لوگوں کی نفرت بھی جن کی وجہ سے انسان بہت سی عبادات سے محروم ہوجاتا ہے اور عقل بگڑ جانے پر آدمی برے بھلے میں تمیز نہیں کر تا اس لیے ان بیماریوں سے پناہ مانگی۔
۲؎ جیسے استسقاء،سل،دق اور وہ لمبی بیماریاں جن میں انسان صبر نہیں کرسکتا،لوگوں پربوجھ بن جاتا ہے،لوگ اس سے گھبرا کر اس کی موت کی دعائیں کرنے لگتے ہیں،بندہ ان کی وجہ سے حقوق اﷲ و حقوق العباد ادا کرنے سے محروم ہوجاتا ہے۔اﷲ تعالٰی چلتے ہاتھ پاؤں اٹھالے آمین ۔خیال رہے کہ یہ دعا ہماری تعلیم کے لیے ہے ورنہ تمام انبیاءکرام حضور سید الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ان امراض سے محفوظ ہیں۔بعض لوگ جذام کو متعدی بیماری سمجھتے ہیں یعنی اڑ کر لگنے والی،اس کی تحقیق ان شاءاﷲ "لا عدویٰ"کی شرح میں ہوگی۔
|
2471 -[15] وَعَن قُطْبةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاق والأعمال والأهواء» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت قطبہ ابن مالک سے فرماتے ہیں کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں بری عادتوں سے برے کاموں سے اور بری خواہشوں سے ۱؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع